سوئی: پانچ دن میں آٹھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں پانچ روز میں آٹھ افراد کی ہلاکت اور تینتیس کے زخمی ہونے کے بعد اب حالات معمول پر آرہے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ہلاک اور زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ منگل کی رات کو نیم فوجی دستوں نے سوئی گیس فیلڈ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ علاقے میں مسلسل پانچ روز کی فائرنگ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے جس میں انسانی جانوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مویشی ہلاک ہوئے ہیں، عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور گیس کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔ ا نتظامی افسر ڈاکٹر محمد اکبر نے بتایا ہے کہ سات جنوری سے بارہ جنوری تک فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا اور اس دوران کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور تینتس زخمی ہوئے ہیں ان میں سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ گیس کی تنصیبات میں تین گیس پائپ لائنوں اور ایک گیس صاف کرنے والے پلانٹ کو فائرنگ سے نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت پلانٹ اور گیس پائپ لا ئنوں کی مرمت کا کام جاری ہے۔ گیس کمپنی کے حکام نے بتایا ہے کہ مرمت میں چار سے پانچ روز لگ سکتے ہیں۔ منگل کی رات شدید فائرنگ سے پلانٹ کو نقصان پہنچا تھا جس سے پلانٹ سے گیس کی ترسیل بند کر دی گئی تھی۔ اس سے پنجاب اور سرحد کے کچھ علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ سوئی سے پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے حوالے سے نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||