سوئی: فائرنگ سے3 مزید افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ انتظامیہ کے ایک افسر نے دو افراد کے ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ چار روز سے جاری فائرنگ سے سوئی میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں۔ فائرنگ کا سلسلہ رات ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوا اور صبح ساڑھے گیارہ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران بھاری اسلحہ کے استعمال بھی ہوا ہے۔ سوموار کی شام ساڑھے پانچ بجے فائرنگ دوبارہ شروع ہوئی جو آدھے گھنٹے کے بعد رک گئی ہے۔ نامعلوم افراد اور ڈیفنس سیکیورٹی گارڈز کے مابین فائرنگ سے صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے۔ انتظامی افسر نے بتایا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والی فائرنگ سے صوبہ سرحد کے شہر بنوں کا رہائشی عصمت اللہ وزیر اور ایک خاتون ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ایک لیویز اہلکار اور ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ چار روز سے جاری تشدد کی وجہ سے مقامی سطح پر لوگ پریشان ہیں۔ یہاں ٹیلیفون پر لوگوں نے بتایا ہے کہ بچوں اور خواتین میں زیادہ خوف پایا جاتا ہے۔ اکثر علاقوں میں لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں جبکہ فائرنگ کے دوران کمروں کے اندر بند ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے گیس فیلڈ کے علاقے میں آنے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ لوگوں نے یہ بتایا ہے کہ اکثر فائرنگ کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس سے زیادہ جانی اور مالی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ ایک شہری نے بتایا ہے کہ ہم تو حالت جنگ میں ہیں جہاں ہر وقت فائرنگ اور راکٹ باری ہوتی رہتی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کسی وقت کوئی گولی یا راکٹ ان پر آ گرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||