سوئی فائرنگ: ایک ہلاک، گیارہ زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں گزشتہ رات کی فائرنگ سے ایک عورت ہلاک اور کم از کم گیارہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سینچر کو بھی اسی طرح کی واقع میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اتوار کے واقع میں زخمی ہونے والوں میں چار بچے اور خواتین شامل ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سوئی گیس فیلڈ میں قائم ہسپتال میں عام شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے زخمیوں کو دوسرے شہروں کی طرف لے جانا پڑرہا ہے۔ سوئی میں قائم ایک چار بستروں کے ہسپتال ہے جس نہ تو مکمل عملہ ہے اور نہ ہی وہاں ادویات دستیاب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں نے بتایا ہے کہ زخمیوں یا ہلاک شدگان کی اطلاع پولیس کو اس اس لئے نہیں دی جا رہی کیونکہ جو لوگ زخمی ہوئے ہوں گے انھی پر مقدمے قائم کر دیے جائیں گے۔اور یہی کچھ ماضی میں ہو چکا ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ حملہ آور تو فرار ہو جاتے ہیں اور اکثر بے گناہ لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ڈیفینس سیکیورٹی گارڈز اور نا معلوم حملہ آوروں کے مابین فائرنگ سے رات ایک اور گیس پائپ لائن پھٹ گئی تھی جس سے گڈو تھرمل پاور پراجیکٹ کو گیس کی ترسیل منقطع ہو گئی تھی۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق گڈو کے لیے متبادل ذرائع سے گیس کی ترسیل شروع کر دی گئی تھی۔ تاہم سرکاری سطی پر اس بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ سوئی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق بگٹی ہاؤس کی دیوار کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ایک پٹرول پمپ بھی متاثر ہوا ہے۔ گولے اور راکٹ شہری آبادی کے علاقوں میں گرے ہیں جس کی وجہ سے نقصان کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||