’ترقی کے مخالفوں سے بات نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو خارجی نہیں بلکہ داخلی مسائل کا سامنا ہے جس میں دہشت گردی نمایاں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت تک نوے فیصد ایسے افراد گرفتار ہو چکے ہیں جو ان وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ بلوچستان میں صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ گوادر سمیت دیگر بڑے منصوبوں کے مکمل ہونے سے ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وارداتوں میں تین قسم کے افراد ملوث ہیں۔ ایک وہ جو عمل کرتے ہیں دوسرے وہ جو منصوبہ بندی کرتے ہیں اور تیسرے ایسے لوگ ہیں جو ماسٹر مائینڈ ہوتے ہیں اور ٹارگٹ کا انتخاب کرتے ہیں۔ صدر مشرف نے کہا ہے کہ اس وقت تک نوے فیصد ایسے افراد گرفتار ہیں اوران کے خلاف مقدمے قائم ہیں جو ان وارداتوں میں کسی نہ کسی حوالے سے منسلک رہے ہیں۔ اس اخباری کانفرنس میں بیشتر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے تمام نمائندوں کی فہرست بھیجی گئی تھی لیکن صدر مشرف کے اس دورے کے منتظمین نے اس فہرست میں سے کئی نام خارج کر دیے تھے جن میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندے بھی شامل ہیں۔ صدر نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں گوادر پورٹ، کچھی کینال اور دیگر منصوبوں کی تکمیل سے ترقی کی راہیں کھلیں گی جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ صوبے کی ترقی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ان لوگوں سے بات نہیں ہو سکتی جو ترقی کے خلاف ہیں اور ترقی کی راہ میں مزاحمت پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ماضی میں بلوچستان کا ترقیاتی فنڈ دو سے تین فیصد رہا ہے اب چھ سے سات فیصد تک ہو گیا ہے۔ صدر مشرف نے کہا ہے کہ تیل اور گیس کے مزید ذخائر تلاش کیے جائیں گے تاکہ ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ پریس کانفرنس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر جب سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ سردار اختر مینگل سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ترقی کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ایسی ترقی نہیں چاہتے جس سے وہ اقلیت میں تبدیل ہوں اور ان کی ثقافت کو نقصان پہنچے۔ بہرحال بات چیت وفاقی حکومت نے شروع کی تھی اب وہ اگر نہیں چاہتے تو ہماری طرف سے کوئی زبردستی نہیں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کچھی کینال کے بارے میں کہا ہے کہ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن پٹ فیڈر کینال کی طرح نہ ہو جہاں ریٹائرڈ فوجیوں کو زمینیں الاٹ کر دی گئی تھیں۔ سوئی گیس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کیسی ترقی ہے کہ جس صوبے سے گیس نکلتی ہے وہاں صرف چار ضلعوں میں فراہم کی جا رہی ہے باقی اس سے محروم ہیں اور بلوچستان کی گیس کی قیمت صرف بائیس روپے فی ہزار مکعب ہے جبکہ باقی صوبوں سے نکلنے والی گیس کی قیمت ایک سو بائیس روپے ہے تو یہ کہاں کی ترقی اور کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سوئی گیس سے پاکستان میں ضرور ترقی ہوئی ہے لیکن بلوچستان میں اس سے کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||