BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 September, 2004, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مدارس تحویل میں نہیں لیں گے‘

News image
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حکومت مدارس کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی ارادہ ہے۔

یہ بات انہوں نے ملک میں قائم تمام مکاتب فکر کے مدارس کے آٹھ رکنی نمائندہ وفد سے راولپنڈی میں ہونے والی تین گھنٹے کی طویل ملاقات میں کہی۔

وفد کی جانب سے مفتی منیب الرحمٰن، محمد حنیف جالندھری اور دیگر نے اپنا موقف پیش کیا۔ملاقات میں تعلیم اور مذہبی امور کے وفاقی اور مملکتی وزراء اور حساس اداروں کے سربراہ بھی موجود تھے۔

صدر مملکت نے اس موقع پر علماء سے کہا کہ دنیا میں اسلام، مسلمان اور دینی مدارس کا تشخص بہتر بنانا اور کے بارے میں قائم غلط تاثر ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے علماء پر زور دیا کہ وہ اپنا موثر کردار ادا کریں۔

ملاقات کے بعد’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، کے رابطہ سیکریٹری محمد حنیف جالندھری نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ دینی مدارس پر چھاپوں، دہشت گردی کے الزامات، انتہا پسندی، مدارس میں سائنسی تعلیم دینے اور غیر ملکی طلباء کے اندراج سمیت تمام امور پرگفتگو ہوئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر سے ملاقات میں اتفاق ہوا ہے کہ آئندہ حکومت کسی مدرسے پر براہ راست چھاپہ نہیں مارے گی۔ ان کے مطابق اگر کسی مدرسے کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں حکومت کے پاس ثبوت ہوں تو مدارس کی متعلقہ تنظیم کو اعتماد میں لے کر کاروائی کی جائےگی۔

اس ضمن میں وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر فوری کاروائی مطلوب ہوئی تو اس صورت میں انہیں بعد میں اعتماد میں لیا جائے گا۔

وزیر نے بتایا کہ ملاقات میں مدارس کی اسناد اور ان کے امتحانی بورڈز کی قانونی حیثیت کے متعلق تین وزارتوں، مذہبی، داخلہ اور تعلیم کے نمائندوں پر کمیٹی بنائی گئی ہے جو اپنی سفارشات تیار کرے گی۔

محمد حنیف جالندھری نے بتایا کہ صدر نےانہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت مدارس میں مداخلت نہیں کرے گی اور انہیں حاصل خودمختاری برقرار رہے گی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مدارس کے اندراج اور سائنسی تعلیم پر کسی نے اعتراض نہیں کیا اور صدر کو بتایا گیا کہ میٹرک تک مضامین مدارس میں پڑھائے جارہے ہیں۔

علامہ جالندھری کے مطابق صدر نے کراچی میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے کی امداد دینے کی منظوری بھی دی۔

پاکستان میں اہلسنت، دیوبند، اہل تشیع اور اہل حدیث سمیت مختلف مکاتب فکر کے تیرہ ہزار مدارس ہیں جن میں دس لاکھ کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔انہیں مفت رہائش، کھانا پینا اور تعلیم دی جاتی ہے۔

چند ہفتے قبل اسلام آباد کی مرکزی’لال مسجد، اور اس سے ملحقہ مدرسے پر چھاپہ ماراگیا تھا۔ جس کے متعلق حکومت کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور پارلیمینٹ ہاؤس سمیت اہم عمارتوں کو تباہ اور بعض وفاقی وزراء کو قتل کرنے کے منصوبے میں اس مسجد کے نائب امام غازی عبدالرشید شامل تھے۔

چھاپے اور الزامات کے بعد لال مسجد کے امام اور نائب امام جو کہ دونوں سگے بھائی ہیں وہ روپوش ہوگئے تھے اور متعلقہ مدرسے کے طلباء اور مقامی علماء نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے بھی کیے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد