کوئٹہ، قلات میں دھماکے، فائرنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ اور قلات میں تین راکٹ فائر کیے گئے اور تین دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ راکٹ باری اور دھماکوں کا یہ سلسلہ رات آٹھ بجے شروع ہوا اور گیارہ بجے تک جاری رہا۔ کوئٹہ میں شہر سے باہر ہزار گنجی کے علاقے میں ہائی وے پولیس کی چوکی کے قریب رات گیارہ بجے کے قریب تین راکٹ گرے ہیں۔ کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ یہ راکٹ نا معلوم مقام سے فائر کیے گئے ہیں جو پولیس چوکی سے کچھ فاصلے پر گرے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں ثانوی تعلیمی بورڈ کی عمارت کے قریب ایک زبردست دھماکہ ہوا ہے۔ یہ عمارت شہر کی دو بڑے رہائشی علاقے جناح ٹاؤن اور شہباز ٹاؤن کے درمیان واقع ہے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ دریں اثناء بلوچستان کے تاریخی شہر قلات سے ضلعی حکومت کے عہدیدار نے بتایا ہے کہ رات آٹھ اور نو بجے کے درمیان دو بم دھماکے ہوئے ہیں لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے ۔ پہلا دھماکہ فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستے کے کیمپ کے قریب ہوا ہے جبکہ پینتالیس منٹ کے وقفے کے بعد ضلعی رابطہ افسر کے دفتر کے باہر دوسرا دھماکہ ہوا ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ یہ دھماکے حالیہ گرفتاریوں کے رد عمل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کوئٹہ کے میزان چوک پر گزشتہ ماہ کے دھماکے کے بعد اب تک پندرہ مشتبہ افراد گرفتار ہیں جن سے پوچھ گچھ جاری ہے ان میں سے پانچ افراد ایک قبائلی لیڈر کے گھر سے گرفتار کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||