کوئٹہ میں راکٹ حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک چوکی پر نا معلوم افراد نے راکٹ داغا ہے جس سے ایک سپاہی زخمی ہوا ہے جبکہ مختلف وقفوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سریاب کے علاقےمیں قائم فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ایک چوکی کے قریب دیوار کو راکٹ لگا ہےجو پانچ سے چھ کلو میٹر دور سے فائر کیا گیاتھا جس سے ایک سپاہی معمولی زخمی ہوا ہے۔ یہ راکٹ رات پونے گیا رہ بجے کے لگ بھگ داغا گیا ہے اور تقریبا اسی وقت سریاب کے علاقے میں ایک دھماکہ بھی ہوا ہے جس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس سے پہلے شام پانچ بجے عدالت روڈ پر ایک نالی میں دھماکہ ہوا ہے۔ یہ دھماکہ کچہری اور دفتر تعلقات عامہ کی عقبی سڑک پر ہوا ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ یہ دیسی ساخت کا بم تھا جس میں نقصان دینے والا مواد نہیں تھا بلکہ اس سے صرف گونج دار دھماکہ ہوا ہے۔ اس دھماکے سے قریب گاڑیوں تک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کوئٹہ میزان چوک دھماکے کے بعد پینتیس افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں تیس افراد کو چھوڑ دیا تھا اور پانچ زیر حراست رہے جن سے کچھ اور معلومات ملی ہیں انھی کی بنیاد پر پیر کی شام تک چھ مذید افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایک گرفتاری معروف قبائلی لیڈر کے گھر سے بھی ہوئی ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ان دھماکوں اور راکٹ باری کی وجہ سے خوف پایا جاتا ہے۔ عام لوگ کہتے ہیں کہ اب انھیں گھر سے نکلتے وقت ڈر لگتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||