کوئٹہ، دس مشتبہ افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بم دھماکے کے بعد پولیس نے اب تک کم سے کم دس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ پولیس حکام نے کہا ہے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے گزشتہ پندرہ روز سے مشتبہ افراد کی کارروائیاں جاری تھیں جن کے خلاف تفتیش کا سلسلہ جاری تھا۔ گزشتہ روز دھماکے کے بعد پولیس نے آج دس سے زیادہ افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مزید گرفتاریاں آج اور کل متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گھڑ سوار پولیس شہر میں گشت کر رہی ہے اس کے علاوہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں شہر میں سائیکل سٹینڈز قائم کر دیے جائیں گے۔ سائیکل سٹینڈز پر عملہ سائیکلوں کا مشینوں کے ذریعے معائنہ کرے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہیں اس میں دھماکہ خیز مواد تو نہیں ہے۔ یاد رہے کہ کوئٹہ میں یہ پانچواں دھماکہ ہے جس میں سائیکل استعمال کیا گیا ہے۔ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ شہر میں اتنی گاڑیوں کو اجازت دی جائے گی جتنی کی پارکنگ کی گنجائش ہے باقی گاڑیوں کو بازار سے باہر پارکنگ تلاش کرنا ہو گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ شہر میں پولیس کے انٹیلجنس نظام کو فعال کیا جائے گا اور مخبروں کو چوکس کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت جو گروہ سر گرم ہے اس سے نئی منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی ہے کیونکہ ماضی میں اس طرح مصروف علاقوں میں کبھی دھماکہ نہیں کیے گئے۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے قوم پرست جماعتیں حکومت پر یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ان دھماکوں کے نام پر بے گناہ شہریوں کو اور سیاسی کارکنوں کو نہ صرف گرفتار کیا جا رہا ہے بلکہ بعض سیاسی کارکنوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور ان کا کئی کئی دن تک پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں بعد میں عدالتوں سے رجوع کرنے پر ان کے بارے میں اطلاعات فراہم کر دی جاتی ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں کو سخت اذیتیں دی جاتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||