BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 December, 2004, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ بم دھماکہ، گیارہ ہلاک

 کوئٹہ
پولیس کے مطابق بم ایک سائیکل پر رکھا گیا تھا
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ اس دھماکے میں ملوث افراد کے گروہ کو توڑنے کے لئے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ دھماکہ شہر کے وسط میں ایک فوجی ٹرک کے نزدیک ہوا۔ دھماکہ کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔

سول ہسپتال میں ذرائع نے بتایا ہے کہ آٹھ لاشیں ان کے لواحقین لے گئے ہیں جبکہ دو لاشیں ابھی تک ہسپتال میں ہیں جن کی شناخت نہیں ہو رہی۔ اس کے علاوہ ایک شخص ملٹری ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔

زحمیوں کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ چوبیس زخمی سول ہسپتال پہنچے ہیں جبکہ سات کو ملٹری ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب شہر میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات اور سیمینار منعقد ہو رہے تھے۔

کوئٹہ میں وفاقی وزارت قانون کے زیر اہتمام بھی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں مقررین بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات بیان کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ جمعہ کو وزیر اعلٰی سمیت صوبائی کابینہ کوئٹہ میں موجود نہیں تھی اور اس واقعے کے بعد بھی کوئی سینیئر اہلکار لورالائی سے واپس نہیں پہنچا۔ آئی جی پولیس چوہدری یعقوب ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ اس دھماکے کو ایک چیلنج کے طور پر لے لیا گیا ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور اب مخبروں کو مزید چوکس کیا جائے گا۔ شہر میں پولیس کی نفری بھی تعینات رہے گی جو مشکوک افراد پر نظر رکھے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ کچھ روز قبل کوئٹہ اور گوادر میں گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جن پر شبہ ہے کہ وہ ان دھماکوں میں ملوث رہے ہیں تاہم اس بارے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

سول ہسپتال میں رات گئے تک لوگ اپنے عزیز و اقارب کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ چاغی کے محمد حسنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے حمیداللہ نےبتایا ہے کہ ان کا بڑا بھائی کمپیوٹر کی تربیتی کلاس کے لیے گیا تھا کہ اس دھماکے کا نشانہ بن گیا۔ حمیداللہ نے بتایا ہے کہ اس کے پیروں میں چپلیوں سے اس کی شناخت کی گئی ہے کیونکہ چہرے سے شناخت ممکن ہی نہ تھی۔

دو نوجوان جو آپس میں ماموں زاد اور خالہ زاد بھائی تھے اسی مقام سے گزرے تو اچانک دھماکہ ہوا۔ ایک نے گھر فون پر بتایا کہ وہ زخمی ہو گیا ہے ۔ ان کے بھائی اور رشتہ دار موقع پر پہنچے تو دوسرے کزن کی تلاش شروع کی ہسپتال کے تمام شعبوں میں اور نجی ہسپتالوں میں اس کی تلاش کی گئی لیکن کچھ معلوم نہیں ہوا ۔ کافی تلاش کے بعد دوسرے نوجوان کی لاش ہسپتال کے مردہ خانے میں پائی گئی۔

ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر چند بچے بیٹھے تھے جنہوں نے بتایا کہ ایک کا باپ اس حادثے میں فوت ہو گیا ہے ۔ اسی جگہ پر ایک نو جوان اور ایک لڑکا دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ ایک اپنے بھائی اور رایک اپنے والد کی ہلاکت پر پریشان تھے۔

ہسپتال میں لائی گئی لاشوں کی حالت انتہائی ابتر تھی۔ اکثر کی شناخت ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت میزان چوک پر ہر طرف دھواں تھا اور عمارتوں سے شیشے گر رہے تھے۔

پولیس افسر پر ویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کہ سائیکل سوار فوجی ٹرک کا پیچھا کرتے ہوئے ساتھ آیا ہے اور ٹرک کے ساتھ سائیکل کھڑی کردی ۔ سائیکل کے ساتھ ایک تھیلے میں بم تھا جس کے ساتھ ایک ٹائمر لگا ہوا تھا جس سے یہ دھماکہ ہوا ہے۔

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے بتایا ہے کہ آج جمعہ کی وجہ سے میزان چوک پر زیادہ ہجوم نہیں تھا ورنہ نقصان زیادہ ہو سکتا تھا۔ انھوں نے ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے ایک ایک لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے اور معمولی زخمیوں کے لیے پچیس ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مرنے والوں میں عام لوگوں کے علاوہ کچھ فوجی بھی شامل ہیں۔

دھماکہ ایک ایسی جگہ پر ہوا ہے جہاں عام طور پر فوجی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں تاہم یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ آیا کہ اس دھماکے کا نشانہ فوج ہی تھی۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے دشمن‘ اس دھماکے کے پیچھے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ اس دھماکے کے ذمہ دار افراد سزا سے نہیں بچ سکیں گے‘۔

پولیس حکام کے مطابق بم چار کلو وزنی تھا اور ایک سائیکل پر رکھا گیا تھا۔

دوسری جانب ایک غیر معروف تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ظاہر کرنے والے ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ آزاد بلوچ نے بتایا ہے کہ وہ یہ کارروائی بلوچستان کے حقوق کے لیے کر رہے ہیں۔

اس تنظیم نے اس سے پہلے بھی اس طرح کی کئی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لیکن سرکاری سطح پر اس تنظیم کے وجود کے بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کہ اس نام کی کوئی تنظیم وجود نہیں رکھتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد