BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 November, 2004, 07:04 GMT 12:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ میں کار بم دھماکہ، چار زخمی

کوئٹہ
کوئٹہ میں بم دھماکوں میں پہلے بھی پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں
کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی عقبی گلی میں ایک کار بم دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک پولیس اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکہ صبح دس بجے ہوا ہے اور یہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ دھماکے سے گاڑی کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئےجبکہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ سول ہسپتال میں اب تک چار زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یہ اہلکار وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی عقبی گلی معصوم شاہ میں موجود تھا۔

کیپیٹل پولیس چیف پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں پہلی مرتبہ ایک گاڑی کو دھماکے کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے سیاسی مقاصد نظر آتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے عقب میں دھماکہ کرنا حکومت کو اپنی موجودگی کا پیغام پہنچانا ہے۔ انھوں نے کہا ہے اس دھماکے کے پیچھے ان ہی قوتوں کا ہاتھ ہے جو اپنے سیاسی مقاصد رکھتے اور اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

کوئٹہ میں بم دھماکے معمول بن چکے تھے لیکن یہ دھماکہ کچھ دنوں کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔

یاد رہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا ہے جب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے کچھ ارکان آئندہ چند روز میں کوئٹہ پہنچ رہے ہیں اور ادھر بلوچ قوم پرست جماعتیں اپنا مشترکہ لائحہ عمل طے کر رہی ہیں۔ بلوچستان کی صورتحال پر قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں مخلتف مکاتب فکر کے لوگوں سے ملنے بلوچستان کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ادھر گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی نے بگٹی ڈوسیئر کے نام سے ایک کتابچہ جاری کیا ہے جس میں بلوچستان میں لوگوں کو لاحق خدشات کا ذکر ہے۔ اس میں گوادر میگا پراجیکٹ اور چھاؤنیوں کے قیام کا خصوصی ذکر ہے۔

دریں اثناء امریکی سفیر نینسی پاول پیر کے روز کوئٹہ کے دورے پر آئی تھیں جہاں انھوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف اور گورنر بلوچستان اویس احمد غنی سے علیحدہ علیحدہ الوداعی ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکی امداد کے ایک منصوبے کا افتتاح بھی کیا۔ یہ منصوبہ بلوچستان میں چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے بارے میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد