کوئٹہ دھماکہ: ایک ہلاک نو زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب بس سٹاپ پر ایک بم دھماکے سے ایک شخص ہلاک اور ایک عورت سمیت نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے۔ گورنر ہاؤس کی عقبی دیوار سے کچھ فاصلے پر ایک سائیکل پر یہ دھماکہ ہوا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بم سائیکل کے اندر نصب کیا گیا تھا یا کسی تھیلے میں رکھا ہوا تھا۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایک عینی شاہد محمد نعیم نے بتایا ہے کہ بم ایک کالے بیگ میں رکھا ہوا تھا اور ہلاک ہونے والا نوجوان اس سائیکل کے قریب کھڑا تھا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سول ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی ہے جبکہ کچھ کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ پرویز رفیع بھٹی نے بتایا کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے جس کا مقصد خوف پھیلانا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں حفاطتی اقدامات کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ شہر میں اہم مقامات پر سکیورٹی سخت ہے لیکن تمام مقامات پر پولیس کی تعیناتی مشکل ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس طرح کے دھماکوں کے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں یہ مذہبی انتہا پسندوں کی کارروائی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل نامعلوم افراد نے سی آئی اے پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بم دھماکے اور راکٹ فائرنگ معمول بن چکے ہیں۔ دو روز قبل گوادر میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آج انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اور پولیس کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ مقررین نے کہا ہے کہ لوگوں کو بے گناہ گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||