کوئٹہ میں دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں جہاں انتیسویں قومی کھیل جاری ہیں اتوار کی شام ایک راکٹ گرا ہے جس سے ایک خاتون کھلاڑی بے ہوش ہو گئی جبکہ جناح روڈ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔ ان دھماکوں سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے اتور کی شام نا معلوم افراد نے راکٹ فائر کیا جو ایوب سٹیڈیم میں کھلے میدان میں گرا۔ راکٹ پھٹنے کی آواز انتہائی زور دار تھی۔ سٹیڈیم میں موجود باہر سے آئے ہوئے کھلاڑیوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ ایک خاتون کھلاڑی اس دھماکے سے بے ہوش ہو گئی تھی۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا ہے کہ خاتون کھلاڑی کو کوئی زخم نہیں آئے لیکن وہ خوفزدہ تھیں۔جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا۔ انتیسویں قومی کھیلوں تیس ستمبر کو ایوب سٹیڈیم میں شروع ہوئے ہیں جو پانچ اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ قومی کھیل شروع ہونے سے دو روز قبل سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر ایک بم دھماکے میں ایک نوجوان ہلاک اور نو افراد زخمی ہو گئے تھے۔ کھیلوں کے لیے حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اتوار کی شام جناح روڈ پر آئس کریم کی دکان کے پاس دھماکہ ہوا ہے جس سے قریب کھڑی ہوئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ ابھی تک ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ وزیر اعظم شوکت عزیز سینچر اور اتوار تک کوئٹہ میں تھے ان کی واپسی اتوار کی سہ پہر ہوئی ہے جبکہ دھماکے شام کو ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے کے دوران کوئٹہ میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ گورنر ہاؤس اور اس کی قریب شاہراوں پر عام ٹریفک معطل رہی اور جبکہ جگہ جگہ پولیس جوان تعینات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||