BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 September, 2004, 07:24 GMT 12:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: پولیس پر حملہ، چار ہلاک

News image
کوئٹہ میں ہفتے کی صبح نا معلوم افراد نے پولیسں پر حملہ کردیا جس میں تین پولیس اہلکار ہلاک اورتین زخمی ہوگئے ۔پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

بعد میں پولیس پر حملے میں ملوث مبینہ حملہ آوروں سے پولیس مقابلے میں ایک حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے جبکہ ایک فرار ہو گیا ہے۔اس مقابلے میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔ پولیس حملہ آوروں کا تعاقب کر رہی ہے اور اس وقت خروٹ آباد اور سبزل روڈ پر پولیس کارروائی جاری ہے۔

شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں کو علاقے میں گشت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی ہی ایک کڑی ہے کیونکہ نثار کاظمی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی تحقیقات کر رہے تھے اور اس سلسلے میں انھیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

پولیس پارٹی پر حملے کے بعد حملہ آوروں کا تعاقب کیا گیا تو حملہ آور ایک چھینی ہوئی گاڑی میں فرار ہو رہے تھے لیکن گاڑی راستے میں چھوڑ کر خروٹ آباد میں ایک مکان کے کنویں میں چھپ گئے جہاں پولیس نے انھیں تلاش کیا اور دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے اس فائرنگ میں ایک حملہ آور ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک فرار ہو گیا ہے۔ اس سے پہلے ایک حملہ آور زخمی حالت میں کہیں روپوش ہو گیا ہے جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات انیس سو ننانوے میں شروع ہوئے اور اب تک لگ بھگ دس وارداتوں میں سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ان وارداتوں میں پولیس کے مطابق کم سے کم دس اہم افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جن کے خلاف مقدمے مختلف مراحل میں جاری ہیں بعض کو سزائیں سنا ئی جا چکی ہیں۔

ان میں ایک اہم کردار داؤد بادینی کا ہے جو اب گرفتار ہے اور کچھ روز قبل عدالت میں ان تمام فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی زمہ داری قبول کر چکا ہے جن میں لگ بھگ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان واقعات میں نمایاں امام بارگاہ پر حملہ، پولیس کیڈٹس پر حملہ اور اس سال مارچ میں عاشورہ کے جلوس پر حملہ شامل ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا ہے کہ ایک اہم رکن عثمان سیف اللہ ہے جو ابھی تک گرفتار نہیں ہوا ہے انھوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے واقعات کی منصوبہ بندی داؤد بادینی اور عثمان سیف اللہ کرتے رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد