کوئٹہ دھماکہ: دو افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے سول سیکرٹیریٹ میں دھماکے کے بعد دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ سیکیورٹی انچارج ڈی ایس پی کو معطل کر کے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ کوئٹہ کے ضلعی پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد دستیاب معلومات اور بم دھماکے کے وقت کے حساب سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یہ گرفتاری سول سیکرٹیریٹ کے گیٹ پر درج تفصیل اور بم دھماکے کے وقت کی مناسبت سے کی گئی ہیں۔ اس دھماکے کے بعد حکومت نے سول سیکرٹیریٹ کے سکیورٹی انچارج کو معطل کر دیا ہے اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے اس واقعہ کی ہر زاویہ سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ گزشتہ جمعہ کے دھماکے کے بعد شہر میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے تو پھر یہ دھماکہ پولیس کی ناکامی نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ حفاظتی انتظامات میں کچھ کمزوریاں ضرور رہ گئی ہیں ان میں گاڑیوں کی چیکنگ کا نظام اہم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیکرٹیریٹ میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی اب صحیح پڑتال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سیکرٹیریٹ میں تعینات مختلف فورسز کو ایک افسر کے تحت کر کے بہتر سکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں گے۔ گزشتہ جمعہ کے دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں دو فوجی اہلکار شامل تھے۔ اس کے بعد گزشتہ اتوار کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ میں جوائنٹ روڈ پر دو راکٹ نصب کر دیے تھے جنھیں پولیس نے چلنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا تھا اب سول سیکرٹیریٹ میں دھماکہ صوبائی حکومت اور پولیس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||