BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 November, 2004, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ دھماکہ: بیرونی عناصر ملوث

کوئٹہ میں گزشہ برس عاشور کے جلوس پر بھی بم حملہ ہوا تھا
کوئٹہ میں گزشہ برس عاشور کے جلوس پر بھی بم حملہ ہوا تھا
بلوچستان کے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں کار بم دھماکے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو سکتے ہیں جبکہ پولیس حکام نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے لیے بڑی رقم خرچ کی گئی ہے اور انتہائی مہارت سے کارروائی کی گئی ہے۔

کوئٹہ میں منگل کی صبح وزیر اعلی کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل عمارت کی دیوار کے قریب ایک انتہائی زور دار دھماکہ ہوا تھا جس میں کم سے کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ تمام زحمیوں کو معمولی چوٹیں آئی تھیں جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کچھ بیرونی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور بلوچستان میں امن قائم ہو۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دھماکہ قوم پرستوں اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ بیرونی ہاتھ کس کے ہو سکتے ہیں تو انھوں نے نام لیے بغیر کہا ہے کہ ایسے ممالک ہیں جو نہیں چاہتے کہ یہاں امن قائم ہو۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ حکومت اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بیرونی عناصر کا نام لے لیتی ہے تو انھوں نے کہا ہے کہ حکومت مضبوط ہے اور اب تک جتنی اس طرح کی کارروائیاں ہوئی ہیں ان میں ملوث بیشتر ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔

کوئٹہ کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے اس واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا انجن نمبر مل گیا ہے ۔ یہ سوزوکی گاڑی سال دو ہزار میں کراچی سے چوری کی گئی تھی اور اسے بعد میں نیلا رنگ دیا گیا تھا۔انھوں نے کہاہے کہ اس دھماکے کے لیے کم سے کم ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں اور انتہائی مہارت سے کارروائی کی گئی ہے۔ ان ھوں نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ اس میں کون لوگ ملوث ہو سکتے ہیں تو انھوں نے کہا ہے اس دھماکے میں وہی ہاتھ ہیں جو پہلے یہاں دھماکے کرتے رہے ہیں لیکن یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہوں کیونکہ اس دھماکے میں خرچہ کیا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے لیے فنڈنگ کی گئی تھی۔

دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اس دھماکے کی زمہ داری قبول کرتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد