کوئٹہ دھماکہ، پینتیس افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں میزان چوک دھماکے کے حوالے سے پولیس نے لگ بھگ پینتیس افراد کوگرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ شہر میں حفاظتی اقدامات کے طور پر کیمرے لگائے جا رہے ہیں اور بازاروں میں سائیکلوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ اب تک پینتیس افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے خصوصی ٹیمیں تفتیش کر رہی ہیں۔ یہ گرفتاریاں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے گزشتہ اڑھائی سال میں چار گروہ ختم کر دیے گئے ہیں اور اب یہ ایک نیا گروہ آیا ہے جو اس طرح کی کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان گرفتاریوں کے حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ان کے حامیوں کو بے گناہ گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات ہاسٹلوں اور محلوں میں چھاپے مارے گئے اور ان کے حامیوں کو حراساں کیا گیا ہے۔ حبیب جالب کا کہنا تھا کہ اگر گرفتاریوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ان کی جماعت مرکزی حکومت سے جاری مذا کرات سے علیحدگی اختیار کر لے گی۔ ادھر وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نےامن و امان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے اور کہا ہے کہ انٹیلیجنس کے نظام کوفعال بنانے کے علاوہ شہر میں حفاظتی انتظامات بہتر کیے جائیں۔ اس بارے میں پرویز رفیع بھٹی نے بتایا ہے کہ شہر میں دس حساس مقامات پر کیمرے نصب کیے جائیں گے جس کے لیے صوبائی حکومت فنڈز فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ بازاروں میں سائیکلوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس سلسلے میں بازاروں سے باہر سائیکل سٹینڈ بنائے جا رہے ہیں۔ سائیکلوں پر تھیلے لٹکانے پر بھی پابندی ہے البتہ پرانے طرز کی ٹوکریاں لگائی جا سکتی ہیں۔ بازاروں میں تجاوزات ختم کی جائیں گی اور اتنی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہو گی جتنی گنجائش ہو گی۔ جمعہ کے روز دھماکے کے بعد سے شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے ۔ بازاروں اور تجارتی مراکز میں لوگوں کی تعداد کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||