BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 December, 2004, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچ آرمی، بلوچ فرنٹ کا وجود ہے‘

کوئٹہ دھماکے میں گیارہ افراد مارے گئے تھے
کوئٹہ دھماکے میں گیارہ افراد مارے گئے تھے
وزیراعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیمیں اگر یہاں شہر میں نہیں تو اپنے اپنے علاقوں میں وجود رکھتی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع لورالائی سے ٹیلیفون پر باتیں کر تے ہوئے وزیراعلی نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام امن پسند لوگ کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہیں جس میں بے گناہ اور معصوم لوگ مارے گئے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس کی ذمہ داری لینے والے ایک طرف ایسے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور دوسری جانب مذاکرات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بلوچستان میں یہ ہونا چاہیے اور وہ ہونا چاہیے۔

وزیراعلی نے کہا کہ ان تنظیموں سے وابستہ افراد اخلاقی طور پر ان تنظیموں سے علیحدہ ہو جائیں اور ایسی تنظیموں کی حمایت سے انکار کردیں۔

بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ کے وجود کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہے کہ یہ تنظیمیں جو ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں اگر یہاں شہروں میں نہیں تو اپنے اپنے علاقوں میں تو وجود رکھتی ہیں۔ ان تنظیموں نے گوادر میں گرفتار افراد کے بارے میں تسلیم کیا ہے کہ وہ ان واقعات میں ملوث تھے اور ان لوگوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

حکومت کے اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ پہلے موٹر سائکل کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی تھیں اب سائکل کے ذریعے دھماکے ہو رہے ہیں۔ اس بارے میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ سا ئکل کی رجسٹریشن مہم شروع کی جائے اور ایک ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت ہر مالک اپنا سائکل پولیس کے پاس رجسٹرڈ کرادے۔

تجویز کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگا یا جائے گا لیکن حکومت کو یہ فائدہ ہوگا کہ اگر کوئی سائکل کسی واردات میں استعمال ہوتا ہے تو شناخت میں آسانی ہو گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں یہ پانچواں دھماکہ ہے جس میں سائکل استعمال ہوا ہے۔

سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ یہ لوگ ہمارے جوانوں کا تعاقب کر رہے ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے مزید بتایا ہے کہ اس کے پیچھے ماسٹر مائند کون ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

ماضی میں اس طرح کے دھماکوں کے بارے میں وزیر اعلی جام یوسف نے کہا تھا کہ ان کے پیچھے بیرونی قوتیں ہو سکتی ہیں۔ اب بی ایل اے نے اس واقعے کی دمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس بارے جب ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہے کہ بیرونی دشمن قوتیں خود آکر یہ کھیل نہیں کھیل سکتیں بلکہ پروفیشنل لوگوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جس کے لیے ان لوگوں کو بڑی رقوم دی جاتی ہیں اور بعض اوقات انہیں نشانے بھی بتائے جاتے ہیں۔ اب اہم شخصیات جیسے سیکیورٹی اہلکار وغیرہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد