’جیش المسلمین کے سربراہ گرفتار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک شدت پسند گروہ کے سربراہ کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے تین کارکنان کے اغوا میں ملوث تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیش المسلمین نامی گروہ کے سربراہ سید ا کبر آغا کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ا کبر آغا کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ایک اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا۔ پاکستان کے وزیِر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ فلیٹ میں موجود حکام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تفتیش کے دوران اکبر آغا نے بتایا ہے کہ وہ پاکستانی کی جنوب مغربی سرحد عبور کر کے ملک میں داخل ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے تین کارکنان کو اکتوبر میں کابل سے اغوا کیا گیا تھا اور نومبر کے اواخر میں ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں تھی۔ اغوا ہونے والوں میں شمالی آئر لینڈ کی انیتا فلینیگن، فلپائن کے انجیلیٹو نایان اور کوسوو کی شقپ حبیبی شامل تھے۔ جیش المسلمین نامی یہ گروہ طالبان کے منتشر ہونے والے ارکان پر مشتمل ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ا کبر آغا کی گرفتاری تنظیمی اختلافات کے نتیجے میں کی جانے والی مخبری کا نتیجہ ہے۔ جیش المسلمین کے کچھ اراکین نےان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے پندرہ لاکھ ڈالر وصول کیے ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس اطلاع پر تبصرہ کرنے گریز کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||