ایف سی نے کنٹرول سنبھال لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں منگل کی شام پر تشدد کے ایک واقعہ کے بعد فرنٹیئر کور نے سوئی گیس فیلڈ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ڈیفنس سروسز گارڈز کو ان کی چوکیوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد کی ہلاکت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔فائرنگ سے دیگر پانچ زخمی بھی ہوئے۔ سوئی سےموصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کچھ افراد ایک مریض کو گیس فیلڈ کے اندر قائم ہسپتال لائے اور وہاں انھوں نے حفاطت پر معمور فوجیوں پر فائرنگ شروع کردی۔ بعد میں حملہ آوروں کے مزید ساتھی ان سے مل گئے اور واچ ٹاورز پر قبضہ کرکے شدید فائرنگ کی ہے۔اس فائرنگ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے فوری طور پر سوئی سے سیکیورٹی اہلکاروں کو وہاں سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ پر نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کو وہاں پر تعینات کردیا ہے جس کے بعد حالات کسی حد تک قابو میں آگئے ہیں۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایف سی کی مذید نفری سوئی گیس فیلڈ بھیجی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پیٹرولیم کمپنی کےپلانٹ کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سوئی سے پنجاب اور سرحد کے لیے گیس سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔ سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام متبادل گیس کی ترسیل کا انتطام کر رہے ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سوئی میں فرنٹیئر کور کو تشدد روکنے کے لیے اختیارات دیے گئے ہیں اور ایف سی کی مزید نفری بھی علاقے کی طرف بھیجی جا رہی ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر رشید لون نے لاہور سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سوئی میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑے صنعتی یونٹوں اور پاور پلانٹوں کو گیس کی ترسیل منقتع کی جا رہی ہے جبکہ اس سے گھریلو صارفین متاثر نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ منگل کو رات بارہ بجے تک بڑے صنعتی یونٹوں کو ترسیل روک دی جائے گی جبکہ بدھ کی صبح تک دوبارہ بحال کر دی جائے گی اس فیصلے سے زیادہ تر ملتان کے قریب واقع صنعتی یونٹ متاثر ہوں گے۔ سوئی کے انتظامی افسر ڈاکٹر محمد اکبر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج سہ پہر تین بجے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو شام گئے تک جاری رہا۔ اس فائرنگ سے دو سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک بچے سمیت دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اس دوران ایک پائپ لائن کے پھٹنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس پر انتظامی افسر کے مطابق قابو پالیا گیا ہے۔ مسلسل فائرنگ سے مقامی لوگوں نے نقل مقانی شروع کر دی ہے اور ضلعی انتظامی افسر ڈاکٹر محمد اکبر کے مطابق سوئی کے جس علاقے میں فائرنگ ہو رہی ہے وہاں سے بڑی تعداد میں لوگ دوسرے دیہاتوں اور شہروں کو جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں اور انتظامیہ نے سوئی شہر میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||