سوئی میں امن کا ایک اور دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو دوسرے دن بھی حالات پُرامن رہے۔ گزشتہ دنوں لڑائی سے بند ہونے والے گیس پلانٹ کی مرمت کا کام جمعہ بھی جاری رہا البتہ سوئی میں ذرائع کے مطابق مرمت کی رفتار کافی سست ہے۔ بلوچستان کے دورافتادہ علاقہ سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہے۔ جمعہ کو بھی تناؤ محسوس کیا گیا۔ علاقے کو بھیجے جانے والے مزید سکیورٹی دستے اہم مقامات پر اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہے ہیں۔ البتہ مقامی انتظامیہ نے ان اطلاعات کو بےبنیاد قرار دیا کہ فوج بھی سوئی پہنچ چکی ہے۔ سوئی میں رابط افسر ڈاکٹر اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے میں کوئی فوج نہیں آئی البتہ سوئی سے باہر کے علاقوں کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ دوسری جانب جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی نے ڈیرہ بگٹی میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ فوج کا رُخ ان کے علاقے کی جانب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چھ ہزار فوجی، توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ علاقے کی جانب لائے جا رہے ہیں جبکہ فضا سے بھی خطے پر مسلسل کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے کسی تازہ رابطے کے بارے میں سوال کا جواب نفی میں دیا۔ ادھر سوئی میں گیس پیوریفیکیشن پلانٹ کی مرمت آج بھی جاری رہی تاہم مقامی ذرائع کے مطابق اس کی رفتار کافی سست ہے۔ اس سستی کی ایک وجہ پرزوں کی عدم دستیابی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کام کی اس رفتار سے پلانٹ کو دوبارہ چلانے میں مزید دو تین روز لگ سکتے ہیں۔ سوئی میں کسی بڑی فوجی کارروائی کے خوف سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مقامی لوگوں نے سامان خورد و نوش جمع کرنا شروع کردیا ہے جس سے ان اشیاء کی وقتی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ جمعہ کی شام کوئٹہ میں صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں اس مسئلہ پر غور ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||