’سوئی کا محاصرہ ختم کیا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی کی کشیدہ صورتحال پر غور کے لئے کوئٹہ میں آج منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس نے حکومت سے علاقے کا محاصرہ ختم کرنے اور وہاں تعینات سیکورٹی دستوں کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ بلوچستان کی حزب اقتدار اور اختلاف کی تقریبا تمام بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس کانفرنس میں حصہ لیاجس کا اہتمام چار جماعتی بلوچ یکجہتی نے کیا تھا۔ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی کانفرنس میں سولہ مقررین نے خطاب کیا اور سوئی کا محاصرہ ختم کرنے، مقامی آبادی کو علاقے سے منتقل نہ کرنے اور ملازمین کو کام پر واپس آنے کی اجازت دینے جیسے مطالبات کئے۔ کانفرنس میں سیاستدانوں کے علاوہ وکلا اور حقوق انسانی کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس کے منتظم اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں اتحاد کے اظہار سے مثبت اثرات ہوں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کی مذمت کی۔ مقررین نے اپنی تقاریر میں پنجاب اور فوج کے کردار پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے گوادر بندگاہ کے منصوبوں کو بلوچ وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ اجلاس نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ ذیاتی میں ملوث افراد کو فورا گرفتار کرنے اور سزا دلاوانے کا مطالبہ بھی کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کی کال کا اعلان وہ بعد میں کریں گے۔ آج کی کانفرنس میں بلوچ، پشتون اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے شریک ہوکر اتحاد کا غیرمعمولی اظہار کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||