BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 January, 2005, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کی ساکھ کو خطرہ ہے‘

News image
بلوچستان میں فوجی کاروائی سے فوج کی ساکھ متاثر ہوگی: بے نظیر بھٹو
پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بلوچستان کی صورت خال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی اور علاقے میں فوجی کارروائی سے فوج کی ساکھ متاثر ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹونے ایک بیان میں کہا ہے کہ وانا کے بعد بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بےچینی سے حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں سوئی گیس پلانٹ پر ایک لیڈی ڈاکٹر کے ہونے والی مبینہ زیادتی میں ملوث وردی والوں کو اس واقعہ کی تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا جائے۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک فوجی افسرکے ملوث ہونے سے ان الزامات کی سنگینی میں اضافہ ہوا ہے۔

News image
راجہ ظفرالحق:اگر کیس درج کر لیا جاتا توانگلیاں نہ اٹھتیں۔

ساوق وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں عوام اور فوج کے درمیا جھڑپوں کی وجہ سے فوج کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ فوج کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کیس، اوکاڑہ ملٹری فارم اور بدین فشریز کیس میں ملوث افسران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیرمین راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے حکومت بلوچستان کے مسائل سنجیدگی سے حل کرنے کی بجائے طاقت سے لوگوں کی زبانیں بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

راجہ ظفرالحق نے کہا کہ فوج اور اس کے سربراہ جنرل مشرف ایک ہی راستہ جانتےہیں جوطاقت کا استعمال ہے۔

لیڈی ڈاکٹر کیس کے بارے میں راجہ ظفرالحق کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ایف آئی آر کا ایک ہفتے کے بعد درج ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس واقعہ میں کوئی بااثر شخص ملوث تھا جس نے ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلہ پر انکوائری کمیشن پہلے ہی بیٹھ جاتا اور کیس درج کر لیا جاتا تو کسی کی طرف انگلیاں نہ اٹھتیں۔

راجہ ظفرالحق نے کہا کہ عالمی سطح پرپاکستان کا موقف یہ ہے کہ لوگوں کو انصاف دلائے بغیر معاشرے سے لاقانونیت، دہشت گردی اور غربت ختم نہیں کی جا سکتی جبکہ خود اپنے ملک میں حکومت مسائل کے حل کے لیے طاقت کی پالیسی اپنا رہی ہے۔

دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر حافظ حسین احمد نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں فوج کشی ’خودکشی‘ ثابت ہوگی۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اب ستر کی دھائی نہیں ہے کہ کاروائی کے بعد ہتھیاربند پہاڑوں پر چڑھ جائیں گے، کے حوالے سے حافظ حسین احمد نے کہا کہ طاقت مسئلے کا حل نہیں ہے۔

حافظ حسین احمد نے خبردار کیا کہ اگر صدر مشرف کے لیے یہ ستر کی دھائی نہیں ہے تو بلوچستان کے لوگوں کے لیے بھی یہ ستر کی دھائی نہیں ہے۔

انہوں نے لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ نے بلوچستان کے حوالے سے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے اور اس سے فوج کی بدنامی ہو رہی ہے۔ ایسے واقعات سے فوج کی جانبداری کو دھچکا لگےگااور اس پر مزید جھوٹے الزامات لگائے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد