BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 January, 2004, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: دھماکوں کے پیچھے کون؟

کوئٹہ کا ہسپتال
بلوچستان میں گزشتہ سال تشدد کے کئی واقعات پیش آئے۔
بلوچستان میں نئے سال کے پہلے نو دنوں میں آدھ درجن سے زائد دھماکے ہو چکے ہیں جن میں صرف ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال صوبہ بھر میں پچیس دھماکے اور ستانوے راکٹ فائر ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ تئیس افراد ہلاک اور باون زخمی ہوئے۔

بلوچستان میں اس طرح کے دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات سال دو ہزار تین کے آخری چار مہینوں میں شدت اختیار کر گئے تھے۔ یہ دھماکے وہ ہیں جو اخباروں میں چھپ چکے ہیں اس کے علاوہ بھی صوبے کے دور دراز علاقوں میں اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں جو رپورٹ نہیں ہوئے اور اب بلوچستان میں یہ دھماکے معمول بن چکے ہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان شعیب سڈل نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ دھماکے اور راکٹ فائر کرنے کے واقعات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو جرائم پیشہ افراد نے کیے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے زیادہ تر وزیر اعظم ظفراللہ جمالی کے آبائی شہر جعفر آباد کے قریب ہوئے ہیں۔

ان حملوں میں کچھ پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔ شعیب سڈل نے کہا ہے کہ اس کی وجہ جعفرآباد کے قریب بلوچستان اور سندھ کی سرحدی پٹی پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی ہے۔

اس کے علاوہ کچھ دھماکے اور راکٹ فائرنگ کے واقعات سیاسی مقاصد کے لئے کیے گئے ہیں۔ ان دھماکوں میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ یہ دھماکے اور راکٹ فائرنگ چھاؤنی کے علاقے میں زیادہ تر کیے گئے ہیں۔ ان سیاسی مقاصد کے لیے کیے گئے دھماکوں میں کون لوگ ملوث ہو سکتے ہیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ چھان بین کر رہے ہیں اور وقت آنے پر بتائیں گے۔

یہاں کوئٹہ میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر میں نا معلوم افراد نے ٹیلیفون کے ذریعے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے بلوچ لبریشن آرمی کرا رہی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد بلوچستان کو حقوق دلوانے کے لیے تحریک چلانا ہے۔ ان لوگوں کا دعوٰی ہے کہ ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق غصب کیے گیے ہیں، مختلف سرکاری محکموں میں مقامی افراد کی بجائے باہر سے لئے گیے لوگوں کو روزگار دیئے گئے ہیں۔

انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل نے اس بارے میں تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے فون موصول ہوئے ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر میں کوئٹہ کے دورہ کے دوران تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان کے ساتھ ماضی میں زیادتیاں ہوئی ہیں جن کے لیے انہوں نے اہل بلوچستان سے معافی بھی مانگی تھی اور کہا تھا کہ اب بلوچستان کو اس کے حق سے زیادہ ملے گا۔

صدر پرویز مشرف کے دعوؤں اور وعدوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے بلکہ حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ غربت، بے روزگاری میں اصافہ، مہنگائی اور پسماندگی صوبے کی پہچان بن چکی ہے۔

جہاں تک بات ہے دھماکوں اور راکٹ فائرنگ کی ان پر قابو پانے کے لیے کوئٹہ کے ضلعی ناظم کہتے ہیں کہ بڑی تعداد میں پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ساری صورتحال کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ستر کی دھائی میں ذولفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان میں ایک ملٹری آپریشن کیا گیا تھا جس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد