’ کسی سردار کا مزارع نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد بلوچستان کے علاقے سوئی میں قبائلیوں کی مورچہ بندی سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا ہے۔ شیخ رشید نے کابینہ کے اجلاس اور صدر جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس کو بتایا کہ بلوچستان کے حوالے سے کابینہ نے انہیں صرف ’ تمام ذرائع بروئے کار لانے‘ کا فقرہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ بگتی یا کسی سردار کے مزارع نہیں ہیں اور وہ جو بات کرتے ہیں وہ حکومت کے ایما پر کہتے ہیں۔ شیخ رشید احمد سے یہ سوال براہ راست ہوا تھا کہ کیا بلوچستان میں فوجی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سوئی کی تنصیبات کو ہر صورت میں بحال رکھا جائے گا اوراس میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑنے دی جائے گی اور تمام ذرائع استعمال کئے جائیں گے تاکہ ترقی کے دشمن اور ملک کی خوشحالی کے دشمن سوئی جیسے حساس مقام پر ملک کی ترقی کو نقصان نہ پہنچائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ہر وہ ذریعہ استعمال کرے گی جس سے سوئی کی تنصیبات اور گیس کی سپلائی کو بحال رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے عمل کو سراہا اور ان سے سیاسی رابطے جاری رکھنے کو کہا گیا۔اس سلسلے میں پارلیمانی پارٹی بھی اپنا کام جاری رکھے گی۔ اس سوال پر کہ حکومت نے بلوچستان میں ہر ’ذریعہ ‘ استعمال کرنے کے مضمرات پر بھی غور کیا ہے یا نہیں وزیر کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی دنوں سے سوئی پر ہزاروں راکٹوں سے حملے کیے گئے ہیں اور حکومت ہر قیمت پر اپنی رٹ بحال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بھی ان اجلاس میں شریک تھے اور ان کی مشاورت سے ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ شیخ نے کہا کہ حکومتی دیکھ رہی ہے کہ وہ کون سے طاقتیں ہیں جو ایک مخصوص وقت میں مخصوص مفادات حاصل کرنے کے لیے یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے کہ بلوچستان اور گلگت کے واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ انہوں نے ان واقعات میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ بلوچستان میں لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ایک فوجی کپتان کی مبینہ زیادتی کے الزامات کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہو گا اور اگر کوئی اس واقعے میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر تحقیق کیے کسی کا نام لے دینا بہت ہی غیر مناسب بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص نے اپنے آپ کو خود پیش کیا ہے اور وہ ہر ٹیسٹ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلان جنگ ان لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے سوئی پلانٹ پر راکٹ چلائے ہیں اور یوریا اور بجلی کے کارخانے بند کرنے کی سازش کی ہے اور ملک میں صنعتی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے اور کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا نقصان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کے بعد دوسرے اجلاس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ حکومت حلیف جماعتوں کی مشاورت سے مسئلے کا حل چاہتی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ کابینہ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین وزرا سردار یار محمد رند، زبیدہ جلال اور نصیر مینگل نے کابینہ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی پر 130 بلین روپے خرچ کئے جا رہے ہیں اور بلوچستان میں یہ ترقی بعض لوگوں کو نہیں بھا رہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس کی مکمل سپلائی پانچ دنوں تک بحال کر دی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||