BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 January, 2005, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان : کابینہ کا خصوصی اجلاس

News image
بلوچستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کے لیے سوموار کو وفاقی کابینہ اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے الگ الگ اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے آج لاہور میں پولو کے ایک میچ کے دوران اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے صبح کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیر اعظم کی صدارت میں ہوگا۔

اس کے بعد حکومت کی اتحادی جماعتوں کے قائدین کا ایک اجلاس ہوگا جس کی صدارت حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کریں گے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مسلئہ کو سلجھانا چاہتی ہے اور مزید الجھانا نہیں چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی خواہش ہے کہ اس سلسلے میں معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھیں اور جو سلسلہ چل رہا ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے۔

تاہم انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر کوئی شخص یا سردار یہ سمجھتا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج وہاں کسی ایکشن کے لیے نہیں گئی بلکہ فوج اہم اور حساس قومی تنصیبات کے تحفظ اور اسے کسی تخریبی کارروائی سے بچانے کے لیے وہاں موجود ہے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ معاملہ اس لیے بگڑا کہ ان (حکومت کے خلاف بات کرنے والے ) لوگوں کی زبان پر کچھ ہے اور دل میں کچھ ہے انہوں نے ایک ایشو بنایا اور پھر اس کی وجہ سے ایک واقعہ کی دو ایف آئی آر درج ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کا جو بھی مجرم ہوگا وہ بچ کر نہیں جاسکے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے وہ اپنا کام اسی طرح جاری رکھے گی اور کل کے اجلاس خصوصی نوعیت کے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں غیر ملکی ہاتھ ہے یا نہیں۔

ادھر بلوچستان کے علاقہ سوئی میں حالات کی خرابی سے پنجاب اور سندھ میں قدرتی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین کو گیس کی کمی کی شکایت پیدا ہوئی ہیں۔

سوئی نادرن پائپ لائن کمپنی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی پیداوار میں پچیس فی صد تک کمی ہوئی ہے جس سے گھریلو صارفین کو صبح اور شام کے مخصوص حالات میں گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد