سوئی: وفاق سے مدد کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے سوئی گیس پلانٹ کی حفاظت کے لیے وفاقی حکومت سے مدد مانگنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ چار جماعتی بلوچ اتحاد نے اس سلسلے میں بلوچستان کی سطح پر کل جماعتی کانفرنس اٹھارہ تاریخ کو کوئٹہ میں طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر صوبائی کابینہ کے فیصلہ کے بعد تمام تر نظریں اب وفاقی حکومت پر لگی ہیں کہ اس کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے جمعہ کے روز سوئی کے مقام پر گیس پلانٹ کی حفاظت کے لیے وفاقی حکومت سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسلام آباد سے ابھی تک یہی اشارے ملے ہیں کہ وہ کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔ اصل توجہ طلب بات یہ ہے کہ آیا وہ اس اہم پلانٹ کی حفاظت کے لئے باقاعدہ فوج تعینات کرتی ہے یا نہیں۔ فل الحال سیکیورٹی کا انتظام فرنٹیر کور کے ہاتھوں میں ہی ہے۔ فضا سے پلانٹ کی نگرانی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا تاہم کسی نئی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج صبح کئی روز سے سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان بند راستہ بھی کھول دیا گیا ہے۔ کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب، جمہوری وطن پارٹی کے ہمایون مری اور نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں صوبائی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اتحاد کے رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔ اتحاد نے اس ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو اس مسلئہ پر بلوچستان کی سطح پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ بعد میں اسی قسم کی کانفرنس قومی سطح پر منعقد کی جائے گی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر حئی بلوچ نے اس موقعہ پر صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچ کی وحدت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ تمام بلوچ جماعتیں اس مسئلہ پر متفق ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کا بھی صوبائی کابینہ کے فیصلے کے بارے میں یہی ردعمل تھا۔ ڈیرہ بگٹی میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا صوبے نے وہی کیا جس کا اس سے مرکز نے تقاضہ کیا تھا۔ ادھر سوئی میں گیس پلانٹ کی مرمت آج بھی جاری رہی تاہم پلانٹ چلانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ لڑائی سے پہنچنے والا نقصان ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ اس مرمت کے لئے ضروری پرزے جلد از جلد حاصل کرسکے تاکہ پلانٹ کو چلایا جا سکے۔ پلانٹ کے دوبارہ چلنے کے بارے میں پی پی ایل نے کچھ نہیں کہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||