BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 January, 2005, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی: وفاق کے اقدام کا انتظار

وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی
بلوچستان کے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں
بلوچستان میں صوبائی حکومت کی جانب سے سوئی گیس پلانٹ کی سیکورٹی وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کے فیصلے کے بعد اس بات کا انتظار ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت کا اس بابت اگلا قدم کیا ہوگا۔

وفاقی حکومت سے اب تک یہی اشارے ملے ہیں کہ وہ کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔ البتہ اصل توجہ کا مرکز یہ ہے کہ آیا وہ اس اہم پلانٹ کی حفاظت کے لئے باقاعدہ فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرتی ہے یا نہیں۔

فی الحال سیکورٹی کا انتظام فرنٹیر کور کے ہاتھوں میں ہی ہے۔ فضا سے پلانٹ کی نگرانی کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری رہا تاہم کسی نئی جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

آج صبح کئی روز سے سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان بند راستہ بھی کھول دیا گیا ہے۔ سوئی بازار میں خریداروں کے رش کی وجہ سے اشیاء خورد و نوش کی قلت بھی پیدا ہوئی ہے۔ فوجی کارروائی کے خوف سے چند مقامی افراد نقل مکانی بھی کر رہے ہیں۔

کوئٹہ کے مقامی اخبارات آج بھی سوئی سے متعلق خبروں سے بھرے پڑے ہیں۔ شاید ہی کوئی سیاستدان ایسا بچا ہو جس نے اس مسئلہ پر بیان نہ داغا ہو۔

ادھر سوئی میں گیس پیوریفیکیشن پلانٹ کی مرمت آج بھی جاری رہی تاہم پلانٹ چلانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ لڑائی سے پہنچنے والا نقصان ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی کوشش ہے کہ اس مرمت کے لئے ضروری پرزے جلد از جلد حاصل کرسکے تاکہ پلانٹ کو چلایا جا سکے۔

پی پی ایل نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے کہ کب تک پلانٹ چلنے کی امید ہے۔ البتہ گیس کی اس سرد موسم میں کمی سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے جمعہ کے روز سوئی کے مقام پر گیس پلانٹ کی حفاظت کے لئے وفاقی حکومت سے مدد طلب کر لی تھی۔

صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے قومی مفاد میں پلانٹ کی حفاظت کے لئے مرکز سے سیکورٹی فورسز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

البتہ انہوں نے کہا کہ فوج کو تعینات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت پر چھوڑ دیا ہے جو حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب اقدامات کرے گی۔ ’اس کا مقصد صرف اور صرف حکومت کی رٹ قائم کرنا اور پلانٹ کو محفوظ بنانا ہوگا۔ یہ فورس جو تعینات کی جائے گی وہ صرف سوئی پلانٹ اور اس کے اردگرد کی آبادی کے لئے ہوگی۔‘

انہوں نے تاہم وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ علاقے میں کسی فوجی آپریشن کے اجتناب کرے۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گیس پلانٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پہلے صوبائی حکومت کو ضرور اعتماد میں لے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد