سوئی سکیورٹی: وفاق سے درخواست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی صوبائی حکومت نے سوئی کے مقام پر گیس پلانٹ کی حفاظت کے لیےوفاقی حکومت سے مدد طلب کر لی ہے۔ صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے قومی مفاد میں پلانٹ کی حفاظت کے لیے مرکز سے سکیورٹی فورسز تعینات کرنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ فوج کو تعینات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت پر چھوڑ دیا ہے جو حالات کو دیکھتے ہوئے مناسب اقدامات کرے گی۔ ’اس کا مقصد صرف اور صرف حکومت کی رٹ قائم کرنا اور پلانٹ کو محفوظ بنانا ہوگا۔ یہ فورس جو تعینات کی جائے گی وہ صرف سوئی پلانٹ اور اس کے اردگرد کی آبادی کے لیے ہو گی۔‘ انہوں نے تاہم وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ علاقے میں کسی فوجی آپریشن سے اجتناب کرے۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گیس پلانٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پہلے صوبائی حکومت کو ضرور اعتماد میں لے۔ شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو باقاعدگی سے قدرتی گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ صوبائی حکومت نے ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ میں ملوث مشتبہ افراد کی گرفتاری پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ واقعہ میں جن افراد کا نام لیا جا رہا ہے وہ رضاکارانہ طور پر سامنے آکر اپنی صفائی پیش کریں تاکہ صورتحال واضح ہوسکے۔ علاقے میں صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ان چند مشتبہ مکانات کی تلاشی آج لی گئی جہاں سے گزشتہ دنوں پلانٹ پر راکٹ داغے گئے تھے۔ سوئی میں حکام کا کہنا ہے کہ آج دوسرے روز بھی حالات پرامن رہے۔ بلوچستان کے اس دور افتادہ علاقہ سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آرہی ہے۔ البتہ مقامی انتظامیہ نے ان اطلاعات کو بےبنیاد قرار دیا کہ فوج بھی سوئی پہنچ چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||