BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 January, 2005, 18:37 GMT 23:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوئی کے باسیوں کی چبھن

 بگٹی قبیلہ
مقامی بگٹی قبیلہ تحقیقات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں
پاکستان کی معیشت کے لیے اہم قصبے سوئی میں زندگی بظاہر آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔

اس تیس ہزار آبادی کے شہر میں نئے سال کی ابتدا کوئی اچھی ثابت نہ ہوئی۔ دو اور تین جنوری کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے سوئی گیس پلانٹ میں تعینات ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔

اس معاملے کو کئی روز تک دبانے کی کوشش کی گئی لیکن جب یہ خبر پھیلی تو اس کا ردعمل توقعات سے زیادہ سنگین شکل میں سامنے آیا۔

کئی دنوں تک یہاں سکیورٹی دستوں اور مسلح افراد کے درمیان ہلکے اور بھاری اسلحے سے جھڑپیں جاری رہیں جن میں آٹھ افراد ہلاک اور ستائیس زخمی ہوئے۔ ملزمان کے ناموں میں چند فوجی افسروں کا ذکر بھی آیا۔

جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے تحقیقات کا حکم دیا گیا اور ایک ملزم کیپٹن حماد سامنے آئے اور اپنے آپ کو تفتیش کے لئے پیش کیا۔

لیکن اس شہر بلکہ علاقے کا باسی مقامی بگٹی قبیلہ اس پیش رفت سے مطمئن نہیں۔ وہ تحقیقات کو غیرجانبدار نہیں مانتا اور اسکا خیال ہے کہ ملوث افراد کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس کا حل انہیں علاقے میں رائج صدیوں پرانے انصاف کے طریقے ’ آس‘ میں نظر آتا ہے۔اس طریقے میں جس شخص پر کوئی الزام لگا ہو اسے آگ کے دھکتے انگاروں پر سات قدم لینے پڑتے ہیں اور سچ کا سچ، جھوٹ کا جھوٹ سامنے آ جاتا ہے۔

یہ عمل اب بھی اس قبائلی علاقے میں رائج ہے۔ اگر فوجی افسر اس عمل کے ذریعے اپنی بےگناہی ثابت کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور بےقصور ثابت ہو بھی جاتا ہے تو بونس میں انہیں بیس ہزار روپے کا مالی فائدہ ہونے کا بھی قوی امکان ہے۔ بے قصور کو بعد میں یہ رقم بطور انعام دی جاتی ہے۔

سوئی جانے کے تمام راستے کھل چکے ہیں البتہ اس کے باوجود شہر کا بازار ویرانے کا تصور دیتا ہے۔ اکثر دوکانیں بند پڑی ہیں جبکہ گلیوں میں لوگ بھی نظر نہیں آ رہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اکثر لوگ لڑائی کے دوران علاقہ چھوڑ چکے تھے اور ابھی تک واپس نہیں لوٹے ہیں۔

یہ بازار عین سوئی گیس پلانٹ کے ساتھ واقع ہے۔ پلانٹ کے سامنے کئی کچی جھگیاں کسی کچی بستی کا سماں پیش کرتی ہیں لیکن دراصل یہ وہ احتجاجی کیمپ ہیں جو مقامی افراد نے نوکریوں کے حصول کے مطالبے کے حق میں لگائے ہیں۔

شہر میں عجیب سا سکون ہے۔ باہر جانے والے تمام راستوں پر چوکیاں قائم ہیں اور ہر آنے جانے والے سے پوچھ گچھ ہوتی ہے۔

گیس پلانٹ کی ایک نشانی جو دور سے نظر آتی ہے یعنی آگ کا ایک شعلہ دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کا مطلب آسان تھا کہ پلانٹ بند ہے۔

پلانٹ میں کام کرنے والے تقریبا اٹھارہ سو مقامی ملازمین آج کل اسی وجہ سے فارغ ہیں۔ انہیں پلانٹ میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ وہ کب کام پر لوٹیں گے یہ کسی کو معلوم نہیں۔

پلانٹ چلانے والی کمپنی پی پی ایل مرمت میں مصروف ہے لیکن یہ نہیں بتا رہی کہ کب تک پلانٹ کام شروع کر دے گا۔

شہر کے باسیوں کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی بندش سے انہیں پینے کے پانی کی ترسیل بھی بند ہوگئی ہے۔

سوئی سے روانگی کے وقت ایک چوکی پر تعینات ایک سپاہی سے مذاق میں کہا چلو تم بھی ساتھ کوئٹہ چلو تو اس نے ہنس کر جواب دیا نہیں ’میں نے جنگ کرنی ہے‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ آیا اس جنگ کی ضرورت پیش آئے گی یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد