ڈیرہ بگٹی: فوجی کارروائی پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کی صورتحال پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیر اعظم شوکت عزیز کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔ آج تمام اخبارات نے اس اجلاس کے انعقاد کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس اجلاس میں بلوچستان میں فوجی آپریشن کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں صوبے کے لیے بنی پارلیمانی سب کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین صوبے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق تجاویز بھی پیش کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے ڈان اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت سوئی میں گیس پائپ لائن اور پلانٹ کی حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس پائپ لائن کے گرد حفاظتی باڑ لگانے اور گیس پلانٹ کے ارد گرد دو مزید باڑ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات سوئی گیس پلانٹ کے عملے کے تحفظ کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گیس پلانٹ کا عملہ علاقے میں کشیدگی کی وجہ سے کام دوبارہ شروع کرنے سے گریزاں ہے جس کی وجہ سے پلانٹ کی مرمت کے کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اتوار کو صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں مقامی قبائلی رضاکاروں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے مورچے سنبھال لیے تھے۔ مزید سکیورٹی دستوں کی تعیناتی کی وجہ سے مقامی بگٹی قبیلے کے لوگ کو خدشہ ہے کہ حکومت وہاں فوجی کارروائی کا پورا پورا ارادہ کر چکی ہے۔ اس سے نمٹنے کی خاطر سینکڑوں بگٹی اور دیگر بلوچ رضاکار ڈیرہ بگٹی علاقے کے دفاع کی غرض سے اردگرد کے علاقوں سے وہاں پہنچے ہیں۔ وہ اس چھوٹے سے شہر اور اردگرد کے علاقوں میں بیس سے تیس مسلح افراد پر مشتمل گروہوں کی صورت میں مورچے سنبھالے مختلف مقامات پر تعینات نظر آتے ہیں۔ سوئی میں کشیدگی کے باعث ملکوں کے شمالی حصوں میں بھی گیس کی سپلائی میں دقت پیش آ رہی ہے۔ گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے ملک کے کئی حصوں میں گیس کی لوڈشڈنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||