ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ بگٹی |  |
 |  رضاکار جگہ جگہ آ گ الاؤ جلائے بیٹھے ہیں |
صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں مقامی قبائلی رضاکاروں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ سوئی کی مقام پر ملک کی قدرتی گیس کی تنصیبات پر حملوں کے واقعات کے بعد اور مزید سکیورٹی دستوں کی تعیناتی کی وجہ سے مقامی بگٹی قبیلے کے لوگ کو بظاہر یقین ہو چلا ہے کہ حکومت وہاں فوجی کارروائی کا پورا پورا ارادہ کر چکی ہے۔ اس سے نمٹنے کی خاطر سینکڑوں بگٹی اور دیگر بلوچ رضاکار ڈیرہ بگٹی علاقے کے دفاع کی غرض سے اردگرد کے علاقوں سے یہاں پہنچے ہیں۔ وہ اس چھوٹے سے شہر اور اردگرد کے علاقوں میں بیس سے تیس مسلح افراد پر مشتمل گروہوں کی صورت میں مورچے سنبھالے مختلف مقامات پر تعینات نظر آتے ہیں۔
 |  رضا کار دوسرے علاقوں سے بھی آئے ہیں |
ایسا ہی ایک گروہ سرد رات میں آگ کے گرد بیٹھا مقامی موسیقی اور چائے سے وقت گزارتے نظر آیا تو قریب یہ معلوم کرنے پہنچا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ ان موجود افراد میں علی مراد بھی تھے۔ ان سے سرد موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے موسیقی سننے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہ روایت ہے لیکن آج کل یہ لوگ جنرل مشرف کے بیانات کی وجہ سے یہاں پہنچے ہیں۔ ’ہم تو صرف اپنا حق مانگتے ہیں لیکن وہ ہمیں مارنے کی دھمکی دے رہا ہے۔‘ ’یہ انڈیا تو نہیں پاکستان ہے تو پھر کیوں یہ طیارے ہمارے سروں پر سے گزر رہے ہیں؟‘
 |  سوئی جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ اجتماعی زیادتی تنازعہ کے آغاز کا باعث بنی |
ڈیرہ بگٹی میں اس مورچہ بندی کے علاوہ حالات معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔ فوجی کارروائی ہو نہ ہو بگٹی قبائل اپنی حفاظت کے اعتبار سے بظاہر کوئی خطرہ لینے کو تیار نظر نہیں آتے۔ |