گیس کمپنی: 10لاکھ ڈالر روزانہ کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں گیس صاف کرنے کے کارخانے پر حملے کے نتیجے میں کارخانے کو پہنچنے والے نقصان کے بعد گھریلو اور صنعتی صارفین کو گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے، جس سے دس لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ گیس کے پلانٹ کو اس وقت نقصان پہنچا جب حملے میں استعمال ہونے والا ایک راکٹ گیس صاف کرنے کے مرکزی پلانٹ کو آ کر لگا۔ اس حملے کے فوراً بعد پلانٹ سے گیس کی فراہمی بند کر دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے کی وجہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں کمپنی کے اسپتال میں کام کرنے والی ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ طور پر کی جانے والی اجتماعی جنسی زیادتی کا واقع تھا۔ کراچی میں سوئی سدرن کے افسر تعلقاتِ عامہ عنایت اللہ اسماعیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ بڑے کارخانوں کو گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ جن اداروں کی گیس کی فراہمی بند کی گئی ہے ان میں کھاد تیار کرنے اور تونائی پیدا کرنے والے کارخانے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی گیس پلانٹ سے گیس کی فراہمی بند ہونے کے باعث پائپ لائینوں میں گیس کا دباؤ کم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بھی گھریلو صارفین کی بہت بڑی تعداد کو پریشاینوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہی کارخانوں کو گیس کو فرہمی بند کی گئی ہے۔ لاہور میں کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر راشد لون نے نے بتایا ہے کہ گیس کی فرراہمی آئندہ چند روز میں معمول پر آ جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس پلانٹ کو حملے سے پہنچنے والے نقصان سے کمپنی کو روزانہ دس لاکھ ڈالر کے مساوی نقصان ہو رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پلانٹ کی حفاظت کے لیے نیم فوجی دستوں کے ایک ہزار ارکان سوئی میں تعینات کیے گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||