| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
غریب صوبہ، شاہی اخراجات
اقتصادی حوالے سے بد حالی کے شکار صوبہ بلوچستان کے نئے وزراء کے لیے تینتیس نئی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں جس پر تین کروڑ روپے خرچ ہو ں گے اس کے علاوہ ان کے دفاتر کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین نے سولہ نئے وزراء کی شمولیت پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صوبے کی معاشی حالت پر اضافی بوجھ ہے۔ وزیراعظم ظفراللہ جمالی کے بھائی اور صوبائی وزیر ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالرحمان جمالی نے کہا ہے کہ تینتیس نئی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں جن میں سے سولہ گاڑیاں نئے وزراء کو دی جائیں گی دس گاڑیاں وزراء کے استعمال کے لیے بلوچستان ہاؤس اسلام آباد بھجوا دی جائیں گی۔ باقی کوئٹہ میں استعمال ہوں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کے لیے فنڈز بڑے صاحب (صدر جنرل پرویز مشرف) نے وفاقی حکومت سے دلوا ئے ہیں جس کے لیے ایک دو روز میں ٹینڈر کیے جا ئیں گے۔ صوبہ بلوچستان اقتصادی حوالے سے بد حالی کا شکار ہے اس کے باوجود حکومت مصلحت یا مجبوری کے تحت کابینہ کے ارکان کی تعداد بڑھا رہی ہے۔ بلوچستان حکومت نے سولہ نئے وزراء کو کابینہ میں شامل کیا ہے جن میں سے مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سات وزراء کو انکے محکمے دے دیے گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ اور نیشنل الائنس کے وزراء تاحال اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کونسا محکمہ دیا جائے گا۔ اس وقت پینسٹھ ارکان کے ایوان میں وزیراعلی سمیت کابینہ کے ارکان کی تعداد تیس ہو گئی ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر علیحدہ ہیں یہ کابینہ بلوچستان کی ایک بڑی کابینہ ہے اس سے پہلے وزیراعلی تاج جمالی اور ذولفقار مگسی کے دور میں بیالیس کے ایوان میں تیس اور تینتیس کی کابینہ رہی ہیں۔ حزب اختلاف کے ارکان کابینہ میں توسیع کے فیصلے کو صوبے کی معاشی حالت پر ایک بوجھ قرار دے رہے ہیں۔ آخر ایک صوبائی وزیر پر کتنے اخراجات آتے ہیں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ ایک وزیر پر لگ بھگ پانچ لاکھ روپے ماہانہ خرچہ ہوتاہے تو سولہ وزیروں پر ماہانہ اسی لاکھ روپے خرچہ آتا ہے اور انتیس وزیروں پر ایک کروڑ پینتالیس لاکھ روپے ماہانہ خرچہ آتا ہے۔ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدال واسع کا کہنا ہے کہ ایک وزیر اگر اپنی حدود کے اندر رہے تو اس پر لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ خرچہ آتا ہے۔ بصورت دیگر وزیر کے لیے ماہانہ پچیس لاکھ بھی کم ہیں۔ عبدالرحمان جمالی نے بتایا کہ ایک وزیر کو تنخواہ پینتالیس ہزار روپے ہے اس کے علاوہ غیر محدود پیٹرول اور ٹیلیفون کا استعمال گھر کے ملازمیں اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کا خرچہ ہوتاہے ۔ حزب اختلاف کے ارکان کے مطابق صوبہ بلوچستان اس وقت تک کوئی دو ارب روپے اوور ڈرافٹ کی صورت میں بینک سے لے چکا ہے اس کے علاوہ مالی خسارہ علیحدہ ہے۔ مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ صوبے کی مالی حالت انتہائی بری ہے انھوں نے بعض مقامات پر تو یہ بھی کہا ہے کہ اگر حالت ایسی ہی رہی تو ملازمیں کی تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق مخلوط حکومت میں بڑی کابینہ وزیراعلی کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ اسے اپنی حکومت بچانا مقصود ہوتاہے اور اس کے لیے اسے تمام اراکین کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔ گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے قدرے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے باتیں تو ضرور کیں لیکن مالی خسارے کے جواب میں کہا کہ وہ اس کا فیصلہ عوام کےمنتخب نمائندوں اور سیاستدانوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کے باوجود صوبے میں لوگوں کے کام نہیں ہو رہے۔ وزراء کے دفاتر کے باہر شروع شروع کے چھ ماہ تک ہجوم رہتا تھا لیکن کام نہ ہونے کی وجہ سے اب وزراء کے دفاتر سنسان پڑے ہیں۔ کیونکہ بقول عام لوگوں کے وزیر اپنے دفاتر میں ملتے ہی نہیں ہیں سیکرٹیرییٹ میں کہیں اور چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||