پاکستانی اور ایرانی بلوچستان میں معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان اور پاکستانی صوبہ بلوچستان کو آج جڑواں صوبے قرار دے دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں صوبوں کے گورنرز نے آج کوئٹہ میں ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔ اس سمجھوتے کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی صوبہ بلوچستان کے گورنر اویس احمد غنی اور ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے گورنر انجینیئر حسین امینی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ حاصل ہو گا۔ گورنر اویس احمد غنی نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت اقتصادی معاشی اور معاشرتی تعاون کیا جائے گا جس سے ان دونوں صوبوں میں ترقی کی راہیں کھلیں گی۔ انجینیئر حسین امینی نے کہا ہے کہ دونوں صوبوں کے تاجروں اور صنعتکاروں ے ملاقاتیں ہو رہی ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ دونوں صوبوں کے مابین ریل سروس کو بہتر بنایا جائے گا اور ٹرانسپورٹ کی اعلی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ دونوں صوبوں کے سرحدی امور بہتر انداز میں حل کیے جائیں گے جن میں منشیات کے علاوہ انسانی سمگلنگ اور دیگر اشیاء کی غیر قانونی ترسیل کو روک کر قانونی راستے فراہم کرنے کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے ان سرحدی صوبوں کے مابین کوئی سات سو کلومیٹر طویل سرحد پائی جاتی ہے جہاں سے روز مرہ استعمال کی کئی اشیاء سمگل کی جاتی ہیں۔ پاکستانی بلوچستان کے کئی علاقوں میں ایران سے بجلی مہیا کی جاتی ہے۔ اس سمجھوتے کے بعد ایرانی حکام نے کہا ہے کہ دیگر علاقوں کو بھی بجلی فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سبزیاں اور دیگر سامان بھی ایران سے لایا جاتا ہے۔ ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے گورنر نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ سے بڑی مقدار میں چاول ایران آتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ دونوں صوبے جغرافیائی اور دیگر حوالوں سے ایک جیسے ہیں۔ ان کے صوبہ سیستان بلوچستان میں بھی ان دنوں خشک سالی پائی جاتی ہے لیکن وہاں جدید آبپاشی کے طریقے اپنائے گئے ہیں۔ گورنر اویس احمد غنی نے کہا ہے کہ ایرانی وفود کو تاریخی جشن سبی میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اس کے علاوہ طلباء اور اساتذہ کے وفود کے تبادلے کے علاوہ پاکستانی زمینداروں اور کسانوں کو ایران بھیجا جائے گا تاکہ وہ جدید آبپاشی کے طریقے سیکھ سکیں اور یہاں ان پر عملدرآمد کر سکیں۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ایران سے پٹرول اور دیگر اشیاء بڑی مقدار میں پاکستان سمگل کی جاتی ہیں۔ اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر دونوں صوبوں کے گورنرز نے کہا ہے کہ مرکزی سطح پر اس سمگلنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں جونہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا اسے فی الفور نافذ کر دیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||