زیادتی کے واقعے کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کی حکومت کی جانب سے سوئی میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم ٹرائبونل سوموار سے کوئٹہ میں کام شروع کر رہا ہے۔ جسٹس احمد خان لاشاری پر مشتمل اس ٹرائبونل کو پندرہ روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔ ادھر سوئی سے موصول اطلاعات کے مطابق اس واقعہ میں ملوث مبینہ فوجی افسر کپتان عماد ابھی بھی سوئی پلانٹ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ادھر جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر خان بگٹی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ہے کہ انہیں امید نہیں کہ سوئی میں ایک خاتون ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا۔ ڈیرہ بگٹی میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اسی سالہ بلوچ سیاستدان نواب اکبر خان بگٹی نے کہا کہ وزیراعظم لیاقت علی خان اور دیگر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا لہذا سوئی تحقیقات سے بھی وہ پرامید نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی زیادتی کے واقعہ کے اتنے روز گزر جانے کے باوجود تحقیقات میں ابھی تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔ بلوچستان حکومت نے اس اجتماعی آبروریزی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کو مقرر کیا تھا جبکہ اس میں ملوث مبینہ فوجی کپتان عماد نے بھی اپنے آپ کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے رضاکاروانہ طور پر پیش کیا ہے۔ عوامی سطح پر بھی اس واقعہ کے بارے میں یہی رائے رکھی جا رہی ہے۔ مقامی بگٹی افراد کا کہنا ہے کہ مہمان کی حفاظت ان کی روایت ہے۔ جبکہ عورت کے ساتھ اس قسم کا سلوک ہو اس بارے میں تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ڈیرہ بگٹی میں کئی افراد نے حکومت کی نیت پر شک کا اظہار کیا ہے۔ وہ اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اگر حکومت مسئلہ کو دبانا چاہے تو ڈین این اے ٹیسٹ بھی کپتان عماد کے نام پر کس اور کا کروایا جا سکتا ہے۔ سب کا کہنا ہے کہ سوئی کے مضافات میں لڑائی خاتون کی بےعزتی کا ردعمل تھا۔ نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ اس کا صوبہ کے دیگر علاقوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات سے تعلق نہیں تھا۔ فل الحال ڈیرہ بگٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں مقامی مسلح قبائلی رضاکاروں نے ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ شہر کے مضافات میں تین اطراف میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر یہ رضاکار چوکس بیٹھے ہیں۔ البتہ بازار میں دوکانیں کھلی ہیں اور معمولات زندگی زیادہ متاثر نظر نہیں آ رہے۔ تاہم راستوں کی مسلسل بندش سے کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ یہاں ہر کسی کی نظریں وفاقی حکومت کے اگلے قدم پر لگی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی کے ناظم کاظم بگٹی نے بتایا کہ دو برسوں سے صوبائی حکومت کی جانب سے شاید سیاسی رقابت کی وجہ سے ترقیاتی فنڈز ملنا بند ہوگئے ہیں۔ ’اس وجہ سے انتہائی ضروری ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||