کونسلر نشستوں کی کمی پر مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر میں انسانی حقوق اور عورتوں کے حقوق کے لیےکام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں نے مقامی حکومتوں کے قانون میں حکومت کی طرف سے تجویز کی جانے والی نئی ترامیم کے خلاف احتجاج کیا ہے اور ان کو پہلے پارلیمان میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا۔ آج اسلام آباد اور پاکستان کے بیشتر ضلعی صدر مقامات پر غیرسرکاری تنظیموں نے مقامی حکومت کے قانون میں نئی ترامیم کی تجاویز کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ لاہور میں ان غیرسرکاری تنظیموں نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں عورت فاؤنڈیشن اور انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے نمائندوں نے ان مجوزہ ترامیم کے خلاف اپنا موقف بیان کیا۔ عورت فاؤنڈیشن نے مقامی حکومتوں کے موجودہ نظام کے قیام کے لیے اہم مشاورتی کردار ادا کیا تھا۔ ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر مشرف نے قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین اور وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں جن ترامیم کی منظوری دی ہے ان کے تحت ایک یونین کونسل میں ارکان کی تعداد اکیس سے کم کرکے تیرہ کردی گئی ہے اور عورتوں کی نشستوں کی تعداد بھی اسی تناسب سے کم ہوکر چھ سے تین رہ جائے گی اور پورے نظام میں عورتوں کی نشستیں چالیس ہزار سے کم ہوکر بیس ہزار رہ جائے گی۔ عورتوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے متوسط طبقہ کی مقامی حکومت کے نظام میں نمائندگی اور شرکت کم ہوجائے گی اور انہیں زیادہ ووٹ لے کر جیتنے کے لیے زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہوگی۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ قدم ضلعی ناظموں کے مفاد کے لیے اٹھایا ہے جو کونسلروں کی تعداد کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے انتخاب کے لیے زیادہ ارکان کے پاس نہ جانا پڑے اور اس سیاست میں وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ سول سوسائٹی کی ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قدم کسی مشاورت کے بغیر اور کسی منتخب اسمبلی میں بحث کیے بغیر اٹھایا گیا ہے اور اس سے سیاست پر برادریوں کا کنٹرول بڑھ جائے گا۔ عورت فاؤنڈیشن کے سلمان عابد نے کہا کہ حکومت کے لیے اصل کام تو مقامی حکومتوں اور ان کے کونسلرز کے اختیارت کو نئی ترامیم کے ذریعے واضح کرنا تھا نہ کہ ان کی نشستوں کی تعداد کو کم کرنا۔ سول سوسائٹی کی یہ تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ وہ مقامی حکومتوں کے ان مجوزہ ترامیم کو واپس لے اور ان پر پارلیمان میں بحث کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس تبدیلی کے حق میں یہ جواز دیا ہے کہ کونسلروں کی تعداد میں کمی کے بعد ان کو اعزازیہ دیا جا سکے گا لیکن یہ دلیل اتنی مضبوط نہیں کیونکہ دیگر اسملیوں کے لیے تو اعزازیہ دیا جارہا ہے تو یہ کٹوتی صرف مقامی حکومتوں کے لیے ہی کیوں کی جارہی ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی حلقے میں جتنے اُمیدوار ہوں گے اتنی ہی وہاں جمہوری عمل میں عوام کی شرکت ہو گی ـ ہر اُمید وار کے حمایتی گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلاتے ہیں اور جتنا سخت مقابلہ ہوتا ہے اُتنی ہی جمہوری گہما گہمی بڑھتی ہے۔ مقامی حکومت کی سطح پر تقریبا سب رائے دہندگان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس مہم میں حصہ لیں اسی لیے اس سطح پر عوام کی شرکت خاصے جوش و خروش سے ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||