| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلعی ناظم کے خلاف مقدمہ
سندھ کے ضلع خیرپور میں نائب ناظم کے عہدے پر پیپلز پارٹی کے حامی عوام دوست گروپ اور مسلم لیگ فنکشنل کے حامی خیرپور دوست گروپ کے درمیان جاری تنازع پر تشدد شکل اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روزہونے والے واقعہ میں ضلع اسمبلی کے دس ممبران زخمی ہوگئے اورقائم مقام ناظم سمیت تین افراد کوگرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نےضلع ناظم نفیسہ شاہ اور قائم مقام ناظم شفیع چانڈیو سمیت بائیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ضلع اسمبلی خیرپور کا ایوان بدھ کے روز اس وقت میدان جنگ بن گیا تھا جب اجلاس شروع ہونے سے قبل صبح کو خیرپور دوست پینل کے عبدالعزیز بھمبھرو اور دیگر اراکین نائب ناظم کا دفتر کھول کر سیٹ پر بیٹھ گئے۔ نائب ناظم شفیع چانڈیو دفتر پہنچے اور انہوں نے سیٹ خالی کرنے کو کہا تو معاملہ تلخ کلامی کے بعد ہاتھاپائی میں تبدیل ہوگیا۔ دونوں فریقین نے گھونسوں اور لاتوں کا استعمال کیا- پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاٹھی چارج کر کےصورتحال پر کنٹرول کیا- جھگڑے میں خیرپور دوست پینل کے پانچ اور عوام دوست پینل کے چار ممبران زخمی ہوگئے۔ پولیس نے قائم مقام نائب ناظم شفیع چانڈیو، امجد شاہ اور شبیر چانڈیو کو گرفتار کر لیا ۔ مسلم لیگ کے حامی ایک کونسلر کی درخواست پرضلعی ناظم نفیسہ شاہ، قائم مقام نائب ناظم شفیع چانڈیو اور دیگر چار یونین کونسل ناظمین سمیت بائیس افراد کے خلاف حملے اور زخمی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دن گڑبڑ کے پیش نظر مختلف تھانوں سے پولیس طلب کی گئی تھی اور پولیس انتہائی چوکس تھی لیکن جھگڑا دفتر کے اندر ہوا اور پولیس دفاتر اور کونسل کے ہال سے باہر تھی۔ اس پرتشدد واقعے کے دوران پیپلز پارٹی کے ایک حامی یونین کونسل ناظم اور ممبر ضلع اسمبلی بہادر پھل مبینہ طور پر پولیس کے حراساں کرنے پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے۔
اپنے ساتھی رکن کے انتقال اور نائب ناظم کی گرفتاری کے خلاف ضلعی ناظم نفیسہ شاہ نےدیگر ارکان کے ساتھ ملکر جلوس نکالا اور شہر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج کیا- متعلقہ پولیس تھانے پر پہنچ کرضلعی ناظم دھرنا دے کر بیٹھ گئیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے اور پولیس کے حراساں کرنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ضلع کونسل کے رکن کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ اس موقع پر ضلعی ناظم نے تھانے کے اندر داخل ہونا چاہا لیکن پولیس نے ضلع کی سربراہ کے لئے تھانے کے دروازے بند کردیئے۔ بعد میں ایڈیشنل ایس پی سٹی کی ہدایت پر نفیسہ شاہ اور بعض دیگر ممبران کو تھانے کے اندر جانے کی اجازت دی گئی لیکن پولیس نے ضلعی ناظم کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا- خیرپور میں پیپلز پارٹی کے حامی عوام دوست پینل کی حکومت ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاھ کی بیٹی نفیسہ شاہ ضلع ناظمی ہیں۔ پیر پاگارہ کے آبائی ضلع خیرپور میں ان کی جماعت فنکشنل مسلم لیگ خیرپور دوست پینل کے نام سے اپوزیشن میں ہے۔ گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر ضلع نائب ناظم شیر محمد پھلپوٹو نے استعفیٰ دے کر عام انتخابات میں حصہ لیا تھا جس کے بعد نائب ناظم کا عہدہ پینل آف پرزائیڈنگ آفیسرز کے سینئر ممبر شفیع چانڈیو کے پاس چلا گیا تھا اور ان کی قائم مقامی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا تھا- دو ماہ قبل صوبائی اسیمبلی کے ضمنی انتخابات میں قائم مقام نائب ناظم نے بھی اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے تھے لیکن حتمی فہرست جاری ہونے سے پہلے ہی انہوں نے کاغذات واپس لے لئےتھے۔ خیرپور دوست پینل کا یہ موقف تھا کہ شفیع چانڈیو نے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے استعفیٰ دے دیا تھا لہذا وہ اب نائب ناظم نہیں رہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے شفیع چانڈیو کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد خیرپور دوست کے عزیز بھمبھرو نے صوبائی حکومت کے ایک خط کی بنیاد پر قائم مقام ضلع ناظم ہونے کا دعویٰ کیا اور ضلع نائب ناظم کے دفتر میں مبینہ طور پر تالے توڑ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ ضلع ناظم کے شدید احتجاج پر وفاقی حکومت کی مداخلت پر ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کرکے شفیع چانڈیو کو عہدے پر بحال کردیا گیا۔ حکمراں گروپ نے کسی امکانی بد مزگی سے بچنے کے لئے سندھ ہائی کورٹ سے شفیع چانڈیو کے حق میں بائیس جنوری تک حکم امتناعی حاصل کر لیا۔ اس روز عدالت اس آئینی درخواست کی سماعت کرے گی۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ صوبائی وزیر سید صبغت اللہ شاہ کی شہ پر ان کی ضلع حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں جس میں صوبائی حکومت سے لیکر پولیس اور انتظامیہ کے اعلی افسران اس کام میں مصروف ہیں حالانکہ وہ ضلع حکومت کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نائب ناظم کے مستعفی ہونے کے بعد یہ عہدہ پینل آف پریزائڈنگ ممبرز کی فہرست کے مطابق قانونی طور پر پیپلز پارٹی کے حامی رکن شفیع چانڈیو کے پاس ہے۔ لہذا وہ نئے نائب ناظم کے انتخاب تک وہ قائم مقام ناظم ہیں۔ نفیسہ شاہ کےمطابق ان کے مخالفین ہر صورت میں اس عہدہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ضلع حکومت کا چلنا مشکل کردیا جائے۔ جمعرات کے روزگرفتار شدگان کو عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا مگر دونوں گروپوں کے درمیاں کشیدگی برقرار ہے۔ خیرپور کے علاوہ حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ اور لاڑکانہ میں بھی پیپلز پارٹی کی حامی ضلع حکومتیں ہیں۔ ان کے سربراہان قومی تعمیر نو بیورو اور صدر جنرل مشرف کے پاس ضلع حکومت کے معاملات میں صوبائی حکومت کی اور بعض وزراء اور اسمبلی ارکان کی جانب سے متوازی انتظامیہ چلانے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ مبصرین اس پُر تشدد واقعہ کو دوسرے اضلاع کے لئے ایک سبق قرار دے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||