عورتوں کا دن زور شور سے منایا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی پیر کو عورتوں کا عالمی دن منایا گیا۔ سرکاری سطح پر تو نہیں لیکن غیر سرکاری تنظیمیوں نے اس دن کو بڑھ چڑھ کر منایا۔ ریلیز(جلوسوں) اور واک کا اہتمام کیا گیا اور خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم عورت فاونڈیشن نے نشتر ہال میں ’خواتین کو سیاسی اختیار دینے‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس منعقد کی جس میں دور دراز علاقے چترال سے لے کر جنوبی ضلع ڈیرہ اسمائیل خان تک کی خواتین کونسلروں نے شرکت کی اور دو سال سے زائد عرصے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ قبائلی علاقے مالاکنڈ میں تھانہ کی ایک منتخب نمائندہ شاکرہ منیر سے پوچھا کہ کیا وہ اب بھی اس نئے بلدیاتی نظام میں اپنے آپ کو بے بس پاتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ بے بس تو نہیں لیکن جو وہ چاہتی ہیں وہ اب بھی ممکن بنانا مشکل کام ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ مردوں کی اکثریت والے ایوانوں میں ان کی آواز سنی جاتی ہے لیکن اتنی نہیں کہ جتنا ان کا حق ہے۔ ڈیرہ اسمائیل خان کی ناہید بخاری کا کہنا تھا کہ حالات میں مثبت تبدیلی آرہی ہے۔ ’پہلے دو برس ہمارے لئے بڑے مشکل تھے اب جو تیسرے سال میں ہماری اپنی کوششوں سے ناظم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں تو وہ ہماری بات سن لیتا ہے جس سے ہم مطمئن ہیں۔‘ کانفرنس کے اختتام پر خواتین کے ایک مشاعرے کا بھی انتظام کیا گیا تھا جس کے بعد ایک مشعل بردار جلوس بھی نکالا گیا۔ کانفرنس کے دوران خواتین کی تیار کردہ مختلف مصنوعات کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فٹبال گراونڈ پر میلہ منعقد کیا گیا جبکہ شام کو ایک واک بھی منعقد ہوئی۔ لاہور میں عصر نامی تنظیم نے ایک ریلی کا اہتمام کیا جبکہ غیر سرکاری تنظیموں پر مشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹی نے الحمرا ہال میں سیمنار منعقد کیا۔ ملتان سے بھی دو ریلیز کے انعقاد کی اطلاع ہے۔ سندھ کے دارالحکومت کراچی سمیت مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے جبکہ اقلیتوں کی تنظیم، آل پاکستان مائنارٹیز ایسوسی ایشن نے کراچی پریس کلب کے سامنے خواتین کے حقوق کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔ صوبہ بلوچستان کے کرفیو سے متاثرہ دارالحکومت کوئٹہ میں کوئی تقریب منعقد نہ ہوسکی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||