شیعہ مظاہرین جیل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ روز لاہور پریس کلب پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کئے جانے والے ڈیڑھ سو سے زیادہ شیعہ مظاہرین کو آج عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔ گزشتہ روز گلگت کے واقعات پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے پریس کلب پر بھاری پتھراؤ کیا تھا اور پٹرول بم پھینکے جس میں تین صحافی زخمی ہو گئے تھے۔ متعدد کاروں کو نقصان پہنچا اور پریس کلب کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے تھے مظاہرے کے دوران پولیس خاموش رہی تاہم جب مظاہرین واپس جانے لگے تب پولیس نے ایک سو چھیاسٹھ مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا اور ان پر ہنگامہ آرائی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا تھا۔ آج پولیس نے ان گرفتار کیے جانے والے افراد کو عدالت میں پیش کیا تو جج نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر کیمپ جیل بھجوادیا۔ دوسری طرف آج لاہور پریس کلب کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے پریس کلب پر حملہ کے وقت پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر پولیس کی مذمت کی۔ پریس کلب کے ارکان نے پولیس اور حملہ میں ملوث بتائی جانے والی ایک شیعہ تنطیم کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور ان کی کوریج نہ کرنے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف شیعہ طلبا تنظیم امامیہ اسٹاوڈنٹس آرگنائزیشن نے اس مظاہرہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور اس کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور کے مرکزی شیعہ مدرسہ جامعتہ المنتظر کے طلبا نے یہ مظاہرہ کیا تھا۔ جامعتہ المنتظر کے ترجمان اور استاد علی اصغر سیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ جو لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان میں سے ایک سو پانچ مدرسہ کے طلبا تو ہیں لیکن وہ صرف آغا ضیا کی ہلاکت پر احتجاج کرنے گئے تھے اور انکا توڑ پھوڑ سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم اگر کوئی طالبعلم اس واقعہ میں ملوث پایا گیا تو اسے مدرسہ سے خارج کردیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے بے گناہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||