شیعہ رہنما کا انتقال، سکردو میں بھی کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہفتے کے روز گلگت میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہو جانے والے شیعہ رہنما آغا ضیاء الدین رضوی جمعرات کو راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے جس کے بعد علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائےامورِ کشمیر فیصل صالح حیات نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت کے علاوہ سکردو میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت، ہنزہ، چلاس اور سکردو میں فوج اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ تحریک جعفریہ کی طرف سے جمعہ کے روز پرامن احتجاجی مظاہروں کی کال بھی دی گئی ہے۔ فیصل صالح حیات نے کہا کہ گلگت اور نواحی علاقوں میں آغا ضیاء الدین کی ہلاکت پر لوگوں کا ردِ عمل فطری ہے لہذا اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہاں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے توڑ پھوڑ کی تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ انہوں نے خود گلگت میں مقامی رہنماؤں سے بات کی ہے کہ وہ لوگوں کو پرامن رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ آغا ضیاء الدین کے جنازے میں صرف ان کے خاندان کے لوگوں اور قریبی دوستوں کو شرکت کی اجازت ہو گی اور اس موقع پر کرفیو بدستور نافذ رہے گا۔ پینتالیس سالہ آغا ضیاالدین رضوی گلگت میں شیعہ مسلک کی سب سے بڑی مسجد امامیہ کے پیش امام اورگلگت میں مذہبی نصاب میں تبدیلی کے خلاف چلنے والی تحریک کے لیڈر تھے۔ ان پر ہفتے کو قاتلانہ حملے میں ان کے دو باڈی گارڈ ہلاک ہوئے تھے جبکہ ان کے سر میں دو گولیاں لگی تھیں اور انہیں پیر کو گلگت سے راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔ ان پر حملے کے بعد گلگت میں ہونے والے ہنگاموں میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گلگت میں حکام نے ہنگاموں کے بعد سے کرفیو نافذ کر دیا تھا جس میں پچھلے دو دنوں سے دو گھنٹے کی نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان کی لاش ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں گلگت لے جائی جا رہی تھی لیکن خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم گلگت میں حالات کشیدہ ہیں اورحکام نے کرفیو میں نرمی کا فیصلہ بھی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ آغا ضیاالدین 1998 میں شمالی علاقہ جات میں مذہبی نصاب میں تبدیلی کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے اورگزشتہ ماہ اسلام آباد آئے تھے جہاں انہوں نے وفاقی وزارت تعلیم کے حکام سے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے مذاکرات کیے تھے جو ناکام رہے تھے۔
حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آغا ضیاء الدین پر حملے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت کر لی گئی ہے اور اس کا تعلق پشاور سے بتایا جا رہا ہے۔ تاہم شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کا کہنا ہے کہ آغا ضیاء الدین پر حملہ فرقہ وارانہ دہشت گردی نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||