گلگت: چودہ افراد ہلاک، کرفیو نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلگت میں ایک شیعہ رہنما آغا ضیاءالدین پر حملے اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں اب تک چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج گشت کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں ابھی تک چودہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حکومت کے ایک افسر اور اس کو خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں جن کو مشتعل ہجوم نے جلا کرہلا کر دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹر اور اے ایف پی کے مطابق تشدد دوسرے علاقوں تک پھلتا جا رہا ہے اور سکردو اور کریم آباد میں بھی مظاہرے ہوئے ۔ لیکن وہاں کسی ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاح نہیں ہے۔ وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات نے بتایا ہے کہ کرفیو اس وقت جاری رہے گا جب تک اس کی ضرورت ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق شیعہ رہنما آغا ضیاالدین پر حملے کے بعد ان کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر کھلم کھلا فائرنگ کی اور سرکاری املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ وفاقی وزیر نے اس واقعے کو ’کھلم کھلا دہشت گردی‘ قرار دیا۔ اے ایف پی نے اسلام آباد میں محکمہ داخلہ کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ فائرنگ کا نشانہ بننے والے سیاسی کے رہنما کو ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیعہ رہنما کے دو محافظ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اے ایف پی نے کہا ہے کہ شیعہ رہنما کے حامیوں نے املاک نشانہ بنایا۔ ان واقعات کے دوران محکمہ صحت کے ایک افسر کو گولی ماری جانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||