لڑکیوں کے سکول تباہ کردیئے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کے شمالی علاقہ جات میں ضلع دیا میر کے سب ڈویژن داریل میں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے سات کمیونٹی سکولوں کی عمارتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے۔ جبکہ بعض سکولوں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔ گلگت سے صحافی سعادت علی مجاہد نے بتایا ہے کہ یہ ساتوں سکول لڑکیوں کے سکول تھے جو سوشل ایکشن پروگرام کے تحت تقریباً چھ سال پہلے قائم ہوئے تھے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ان ساتوں سکولوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور کچھ کو آگ لگا دی گئی جبکہ دیگر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔ سعادت علی مجاہد کا کہنا ہے کہ یہ سکول اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں تاہم کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔ سیکٹری تعلیم شمالی علاقہ جات جمیل احمد نے بتایا کہ جن علاقوں میں یہ سکول قائم کئے گئے تھے وہاں غیر ملکی امداد کو حرام اور لڑکیوں کی تعلیم کو شریعت کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خیال کے حامی عناصر نے سکولوں کو دھماکوں سے اڑا دیا یا نذرِ آتش کر دیا۔ محکمۂ تعلیم کی طرف سے حکام سے فوری طورپر ان نامعلوم افراد کی گرفتاری اور واقعے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ سیکٹری داخلہ شمالی علاقہ جات سعید احمد خان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اضافی نفری اور پیرا ملٹری فورسز فوری طور پر داریل کی جانب روانہ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض شواہد ایسے ملے ہیں جس سے ایک ہفتے کے اندر اندر سکولوں کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ ان علاقوں میں اس طرح کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ گزشتہ اکتوبر میں تانگیر میں دو اور تھورنالہ میں لڑکیوں کے ایک سکول کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا جس پر ملزمان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم اصل ملزمان کی گرفتاری ابھی تک عمل میں نہیں آئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||