| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہمان خانوں پر پابندی برقرار
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کی ایک اعلیٰ عدالت نے شہر کے رہائشی علاقوں میں قائم تعلیمی اور طبی مراکز اور مہان خانوں یا گیسٹ ہاوسز پر پابندی برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پشاور کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں شہر کے بڑے رہائشی علاقوں حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاون میں قائم سینکڑوں تعلیمی اداروں، گیسٹ ہاوسز اور طبی مراکز کو حکم دیا تھا کہ وہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو جائیں یا پھر کاروبار بند کر دیں۔ ان مراکز کی انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت کے جسٹس ناصر الملک اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل بینچ نے جعمرات کو اپنے فیصلے میں شہری انتظامیہ کے فیصلے کی تائید کی اور اسے برقرار رکھا۔ پشاور کی گلی گلی میں سینکڑوں سکول، کالج اور کلینکس قائم ہورہے ہیں جس سے رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان فرق تیزی سے ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ماہرین کے خیال میں اس سے فیصلے سے شہری علاقوں کے تیزی اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے کاروباری علاقوں میں تبدیل ہونے کے منفی رجحان کو روکا جا سکے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||