چلاس:اب لڑکوں کا سکول نذرِ آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور جمعرات کی رات چلاس کے قریب ایک گاؤں میں ایک اور سکول کو نامعلوم افراد نے آگ لگا کر تباہ کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ہونے کے شک میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے زیرِ انتظام شمالی علاقاجات میں گزشتہ پانچ روز کے دوران یہ نواں سکول ہے جس پر حملہ ہوا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے چلاس سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور تھرنالہ کے علاقے میں ایک گاؤں اخروٹ میں قائم ایک نجی سکول کے دو کمروں پر مشتمل عمارت کو آگ لگا دی۔ یہ واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور اس سے عمارت کا فرنیچر اور لکڑی والا حصہ مکمل طور پر راکھ بن گیا البتہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ سکولوں پر حملے کا تازہ واقعہ اس اعتبار سے قدر مختلف ہے کہ اس مرتبہ اس حملے کا ہدف لڑکیوں کا نہیں بلکہ لڑکوں کا سکول ہے۔ چلاس میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں ملوث ہونے کے شبہ میں اس نے گاؤں کے تین افراد کو تفتیش کے لئے حراست میں لیا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کی رپورٹ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل سکولوں پر حملوں کے الزام میں حکام سترہ افراد کو پہلے ہی حراست میں لے چکے ہیں۔ جمعرات کے روز جلایا جانے والا سکول بھی گلگت کے علاقے میں غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے نجی سطح پر قائم کئے گئے سکولوں میں سے ایک ہے۔ مبصرین کے خیال میں اس تازہ واقعہ سے اشارہ ملتا ہے کہ ان حملوں کا ہدف لڑکیوں کی تعلیم ہی نہیں بلکہ غیرسرکاری تنظیمیں بھی ہوسکتی ہیں جو اس علاقے میں تعلیم اور ترقی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ اور ایک اور بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیم آفاد کے دفاتر پر بھی دستی بموں سے حملہ ہوا تھا۔ یہ حملہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس پہلے چھ بار ایسا ہو چکا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی غرض سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ ان واقعات کی وجوہات جاننے کی کوشش کریں گی۔ ادھر شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ نے آج چلاس میں مقامی علما اور معززین سے ملاقات کی اور سکولوں پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||