BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدلتا ہوا پاکستان

 پاکستان
بدلتے زمانےکے ساتھ ساتھ لوگوں کے طرزِ زندگی میں بھی تبدیلی آ رہی ہے
آپ یا تو موبائل فون سن رہے ہیں یا کار ڈرائیو کررہے ہیں یا ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہیں تو اپنے کمپیوٹر پر بیٹھے ہیں۔ انٹرنیٹ کی سرفنگ ہورہی ہے یا ای میل کھلا ہے۔ اب پاکستان میں لوگ بہت مصروف ہوگئے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملنے کا وقت بہت کم ہے۔ یہ گیجٹس اور میڈیا کا دور ہے جو سالِ رفتہ میں نئی توانائی کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا۔

زندگی تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ گزرتا ہوا سال اس تبدیلی میں کچھ اور تیزی لے کر آیا۔بیشتر نجی سکولوں میں کرسمس کی تقریبات ہورہی ہیں۔ مسلمان بچے بھی ذوق وشوق سے حصہ لے رہے ہیں۔ سانتا کلاز آتا ہے، بچوں کو تحفے دے کر جاتا ہے۔ میڈیا میں کرسمس کے پروگرام پیش کیے جارہے ہیں۔ایک مقامی اخبار نے کرسمس پر اتنا تفصیلی فیچر چھاپا ہے جو شاید عید پر بھی کبھی شائع نہیں کیا۔

News image
ملک میں ویلنٹائن ڈے جوش وخروش سےمنایا جانے لگا ہے

کرسمس ہی کیا اب تو ویلنٹائن ڈے بھی ایسے زور وشور سے منایا جاتا ہے کہ لندن میں بھی کیا منایا جاتا ہوگا۔ اخباروں میں محبت نامے شائع ہوتے ہیں اور اس کے خلاف کسی طرف سے ، قدامت پسند ہوں یا دائیں بازو کے نظریاتی یا نام نہاد مذہبی اور جہادی ، کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آتی۔ اسکولوں میں ہیلووین کی تقریبات ہوتی ہیں بچے خاص لباس خرید کر لے جاتے ہیں۔ نیو ائیر کی پارٹیاں جوش و خروش سے ہوتی ہیں جن کے خلاف اردو اخباروں کا ایک گروہ ٹوں ٹاں کرتا رہتا ہے پر کون سنتا ہے۔

پاکستان میں لوگ سیاست سے دور ہوگئے ہیں جو بات انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں تھی اب نہیں ہے۔ وہ سیاست سے لاپرواہ دکھائی دیتے ہیں اوراپنی زندگی کو اچھی طرح گزارنے میں زیادہ مصروف ہیں۔ نئی نئی چیزیں خریدنے کا شوق بڑھ گیا ہے۔

اپنی نجی زندگی کو دوسروں کی نگاہوں سے بچا کر پرائیویسی کے ساتھ رہنے کا چلن بڑھ رہا ہے۔ شہروں کی حد تک تومشترکہ خاندانی نظام خاصا کمزور ہوچکا ہے اور نیوکلئس خاندان کا مغربی تصور عام ہورہا ہے۔ محلہ داری اور ہمسائیگی تو دور کی بات اب لوگ ماں باپ اور دوسرے رشتے داروں سے بھی دور جارہے ہیں۔

ہر امیر اور متوسط علاقے کے سکول کے باہر بچوں کو چھوڑنے کے لیے آنے والے ماں باپ کی گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ ایک ہی گلی میں رہنے والے لوگوں کے ایک ہی اسکول میں جانے والے بچے الگ الگ کاروں میں جاتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ہمسایوں پر اتنا اعتماد بھی نہیں ہے کہ مل کر ایک گاڑی میں اپنے اپنے بچوں کو اسکول بھیج دیں۔ محلہ داری ماضی کا قصہ ہے۔

فائل فوٹو
لوگوں میں بچوں کو مہنگے تعلیمی اداروں میں بھیجنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے

بچوں کی تعلیم تو لوگوں کی زندگی کی ایک بہت بڑی فکر بنتی جارہی ہے۔ سرکاری سکولوں کا تو اب کوئی نام ہی نہیں لیتا۔ نجی سکول ، گرائمر سکول اور ان کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی فیسیں یہ متوسط طبقہ کی سب سے بڑی فکر ہے۔

لوگ کہتے ہیں زندگی میں اور کچھ نہ کرسکیں صرف اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوالیں تو سمجھیں گے زندگی کارآمد ہوئی۔ ہر گلی ہر محلہ میں ایک اسکول کا بڑا سا بورڈ نظر آتا ہے اور اتوار کے اخبارات ان کے اشتہاروں سے بھرے ہوئے۔ جہاں پہلے رنگ گورا کرنے کی کریموں کے اشتہار ہوا کرتے تھے۔

پہلے اخبارو ں میں حکیموں اور کشتوں کے اشتہار اور دیواروں پر عطائیوں کی وال چاکنگ نظر آتی تھی۔ اب جنگ سنگ کے اخباری اشتہار اور ٹی وی پر کمرشل نظر آتے ہیں۔ حکومت نے بھی ویاگرا کو دوا کے طور پر رجسرڈ کرلیا ہے۔ اب بلیک میں مہنگے داموں کے بجائے کنٹرول نرخوں پر مل سکے گی۔

نئے زمانہ کے ساتھ بلکہ یوں کہیے کہ ترقی یافتہ مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی خواہش روز افزوں ہر طرف ہر گوشے میں نظر آتی ہے۔ اب بچوں کے پسندیدہ کھانوں میں حلووں اور پلاؤ زردے کا ذ کر نہیں بلکہ ان میں نوڈلز ، برگرز اور پیزے شامل ہیں۔

News image
پاکستانی عوام میں فاسٹ فوڈ کلچر فروغ پا رہا ہے

لاہور میں کے ایف سی کی شاخیں بھی ہیں ، میکڈونلڈ بھی ، پیزا ہٹ بھی ، سب وے اور شکاگو گرل بھی۔ شائد پاکستان کا شہری متوسط طبقہ جسامت میں اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس کی خوشحالی کے مظاہر نمایاں تر ہوگئے ہیں۔

لباس میں ایک عورت اور لڑکی کا پتلون پہنے لاہورکی سڑکوں اور بازاروں میں نظر آنا سوچنا محال تھا۔ اب ڈیفنس اور لبرٹی میں جینز پر چھوٹے کرتے پہنی لڑکیاں عام دکھائی دیتی ہیں۔ ہاں سکرٹ کا رواج ابھی نہیں آیا۔ البتہ فیشن ڈیزائنرز کے لباسوں کی دکانیں مردوں کے ہوں یا عورتوں کی اب شاپنگ مالز زیادہ سے زیادہ دکھائی دینے لگی ہیں۔

بینکوں نے آسان قرضوں پر جب سے گاڑیاں دینی شروع کی ہیں لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر جہاں دس بیس سال پرانے ماڈل کی گاڑیاں کثرت سے نظر آتی تھیں اب وہاں نئی چمکتی ہوئی گاڑیوں کی بہتات ہے۔ پرانی گاڑیاں اکا دکا نظر آتی ہیں۔ اب سوزوکی اور ٹیوٹا ہی نہیں سانترو اور ہونڈا کا بھی دور دورہ ہے۔ بڑے شہروں میں انڈر پاس بن رہے ہیں اور سڑکیں کشادہ کی جارہی ہیں۔ صرف لاہور میں چار سے زیادہ انڈر پاس ایک سال میں بنائے جا چکے ہیں۔

جدید ہارڈوئیر کو جس شوق اور سرعت سے پاکستان کے لوگ اپناتے ہیں اس کی ایک مثال تو کیمروں والے موبائل فون کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ جو لوگ بظاہر متوسط طبقہ سے سہی اور ایسی چیزیں بظاہر ان کی استطاعت سے باہر دکھائی دیتی ہیں وہ بھی کسی طور انہیں حاصل کرلیتے ہیں اور جگہ جگہ سڑکوں پر موبائل فون کمپنیوں کے بڑے بڑے سائن بورڈز اور اخباروں میں اشتہارات آپکا استقبال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

News image
کیمرے والے فون اب عام ہو گئے ہیں

سرکاری اعداد وشمار ہیں کہ بہت جلد پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد عام فون استعمال کرنے والوں سے زیادہ ہوجائے گی۔ چھوٹے شہروں میں جہاں تاریں بچھانا مشکل ہے سرکاری فون کمپنی وائرلیس فون بھی متعارف کراچکی ہے۔ شہروں میں پری پیڈ لینڈ لائن متعارف کردی گئی ہے جہاں فون کا کنکشن برسوں میں لگتا تھا اب دنوں میں مل جاتا ہے۔

سب سے بڑھ کر جو چیز اب شدت سے محسوس ہوتی ہے وہ پاکستانی معاشرہ پر میڈیا کا راج ہے۔ کیبل کا رواج بڑھتا جارہا ہے ۔ ہر گھر میں اب ساٹھ ستر چینلز دیکھے جاتے ہیں۔ چند سال پہلے تک کرنٹ افئیرز تک رسائی کے لیے الیکٹرانک میڈیا پر پی ٹی وی کا تسلط تھا۔ اب جیو ٹی وی ہے ، اے آر وائی ہے ، انڈس ہے ، ایف ایم ایک سو تین ریڈیو ہے۔ ایف ایم ریڈیو کے چینلز بڑھتے جارہے ہیں۔

News image
ملک میں ٹی وی چینلز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

تفریح کے مواقع کلبوں اور بارز کے ذریعے دستیاب نہ سہی۔ لوگوں نے گھر کے اندر ان ڈور تفریح میں پناہ لے لی ہے۔ کرکٹ کا جنون کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ کیبل پر نئی فلموں اور انڈین چینلز کے ذریعے سٹار ، سونی اور زی کے ڈراموں کی مقبولیت بڑھ گئی ہے۔ شائد اسی سے متاثر ہوکر پاکستانی چینلز جیسے جیو وغیرہ کے ڈرامے بھی انڈین اثر لے رہے پیں اوراب فلمی انداز میں بنائے جارہے ہیں۔ فلم ساز جیسے جاوید فاضل اور ایس سلیمان بھی ٹی وی ڈراموں کی پروڈکشن میں آگئے ہیں۔ ٹیلی فلموں کا رواج بڑھ گیا ہے۔

دوسری طرف سینما کا بھٹا بیٹھ گیا ہے۔ لاہور کے سٹوڈیوز میں مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ ایک اسٹوڈیو کو نجی کالج بنانے کے لیے کرائے پر لینے کی بات چیت چل رہی ہے۔ بقر عید کے موقع پر کوئی نئی فلم نمائش کے لیے پیش نہیں کی جارہی۔

فلمی صنعت شدید بحران کا شکار ہے۔ پاکستانی فلموں سے فلم بینوں نے منہ موڑ لیا ہے اور سینما مالکان حکومت سے بار بار انڈین فلموں کی نمائش کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فلم ساز انڈین موسیقاروں ، گلوکاروں اور اداکاروں کی مدد کے ساتھ ساتھ ممبئی میں فلمیں بنانے کی طرف بھاگ رہے ہیں تاکہ اپنا روزگار چلتا رہے۔

کاریں ، موبائل فون ، کمپیوٹر ، مہنگے سکول ، مہنگے ریستوران ، ڈیزائنرز کے لباس اور کیبل ٹی وی گزرے سال میں نئی زندگی کے لازمی اجزاء کے طور پر ابھرے لیکن اپنے جلو میں ایک ایسی زندگی بھی لائے ہیں جس میں لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت نہیں ہے، ہر آدمی مصروف ہے ، بھاگ دوڑ میں لگا ہے۔ ایسے میں سیاست کی اور سیاستدانوں کی کسے فکر ہے؟ کوئی ورید پہنے یا شیروانی۔ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تُو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد