ختم ہوتے ہوئے عید کارڈ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں میں عید کارڈوں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کی بڑی وجہ انٹرنیٹ بتایا جاتا ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں عید کارڈ فروخت ہوتے ہیں۔ جس کے لیے نت نئے ڈیزائن کے کارڈ چھپوائے جاتے ہیں اور بڑے شہروں میں عید کارڈوں کی خصوصی میلے لگائے جاتے ہیں۔ لیکن اس سال عید کارڈوں کے کاروبار کا بازار ٹھنڈا ہے۔ اس مرتبہ بھی روایتی دکانوں کے علاوہ کئی ایک مقامات پر عید کارڈ میلے اور سٹال لگائےگئے ہیں لیکن وہاں پرخریداروں کا وہ رش نہیں ہے جو آج سے چند برس قبل نظر آتا تھا۔ دکاندار، عید کارڈ چھاپنے والے اداروں اور خریدار تینوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ حیدرآباد شہر میں عید کارڈوں کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مبارک باد کے کارڈوں میں اس کمی کی وجہ لوگوں کی قوت خرید میں کمی انٹرنیٹ اور ای میل کے ذریعے ای کارڈوں کا استعمال اور نوجوانوں میں چیٹنگ کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ انیس سو نوے سے حیدرآباد میں عید میلہ لگانے والے کراچی کے تاجر محمد نصرت کا کہنا ہے کہ آپ اگر آج سے چار پانچ سال پہلے بیس رمضان کو آتے تو میں آپ سے بات ہی نہیں کرتا کیونکہ رش کی وجہ سے اتنی فرصت ہی نہیں ہوتی لیکن اس سال ابھی تک میں نے بمشکل پچاس فیصد کارڈ بیچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں اور خصوصاً طلبا میں عید کارڈ خرید کرنے کی عادت ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عید کارڈوں کی قیمت میں دس سے تیس روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ایک عام کارڈ سات آٹھ روپے میں مل جاتا تھا اور ایک خوبصورت کارڈ کی قیمت پچیس روپے ہوتی تھی لیکن اب یہ قیمت دگنی ہوگئی ہے۔ لوگوں کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہیں کہ وہ اتنے مہنگے کارڈ خرید کر سکیں۔
ماہ رمضان کے وسط میں شہر کے تین بڑے مراکز پر جہاں اچھے کارڈ ملتے تھے بیرون ملک کارڈ بھیجنے والوں کا رش لگا رہتا تھا لیکن اب یہ عالم ہے کہ کوئی بھولا بھٹکا گاہک ہی ان دکانوں پر آتا ہے۔ کراچی کے عید کارڈ چھاپنے والے پریس کے ایک سیلز مین حنیف میمن نے بتایا کہ صرف حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ کراچی میں بھی عید کارڈوں کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی دکانداروں اور خریداروں نے اس مرتبہ آرڈر ہی بک نہیں کرائے۔ عید کارڈ بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ عید کارڈوں پر منافع کی شرح بھی کم ہوئی ہے۔ ایک دکاندار جب بڑی تعداد میں کارڈ بک کراتا ہے تو وہ مال اٹھانے کا پابند ہوتا ہے۔ کیونکہ کارڈ تیار کرنے والی کمپنی اس سے یہ مال واپس نہیں لے گی۔ لہذا جب کارڈ نہیں بکتے تو ان کو دوسرے سال کے لیے محفوظ کرنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسرے سال یہ کارڈ کم قیمت پر بکتے ہیں۔ یوں اس کے منافع کی شرح کم ہو جاتی ہے اور کام بڑھ جاتا ہے۔ نصرت کا خیال ہے کہ عید کارڈوں کی فروخت میں کمی چار سال قبل شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل طلبا، بینکار اور دوا ساز کمپنیوں والے پرکشش آرڈر بک کراتے تھے لیکن رواں سال ان لوگوں میں سے کوئی پلٹ کر ہی نہیں آیا۔ طلبا اور نوجوان مختلف ویب سائٹوں پر موجود مفت میں موجود ای کارڈوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ایک اور معروف دکان کے سیلزمین اعجاز احمد بتاتے ہیں کہ رمضان کے وسط میں عموما ہم کارڈوں کا دوبارہ آرڈر دیتے تھے لیکن اس مرتبہ ماہ صیام کے آخری عشرے تک بمشکل تیس فیصد سیل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو تین سال قبل میں یہ سمجھتا تھا کہ گاہک مختلف سٹالوں پر بٹ گئے ہیں جو گلیوں اور سڑکوں پر عارضی طور پر لوگوں نے لگا رکھی ہیں۔ لیکن معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ وہاں بھی گاہک کم ہیں اور یہ گلیوں والے دکاندار بھی گاہکوں کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کی طالبہ حرا ابڑو کا کہنا ہے کہ کاغذ پر چھپا ہوا کارڈ مختلف احساس دلاتا ہے۔آپ اسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ کئی لوگ اپنے گھروں اور دفاتر میں بھی یہ کارڈ سجا کر رکھتے ہیں۔ جب آپ عید کارڈ کھولتے ہیں تو بلکل ہی ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے۔
اب تو ان گنت ویب سائٹوں پر ہزاروں اور لاکھوں قسم کے مبارک باد کےکارڈ موجود ہیں۔ لوگ ایک کلک کے ذریعے یہ کارڈ بڑی آسانی کے ساتھ کم قیمت میں گھر بیٹھے بھیج دیتے ہیں۔ ای کارڈ بھیجنے کے لیے محکمہ ڈاک کی بھی محتاجی نہیں ہے جہاں بیس گرام کے کارڈ کے لیے چار روپے کا ٹکٹ لگتا ہے اور پھر ڈاکیے کو عیدی الگ سے دینی پڑتی ہے لیکن یاہو، ایم ایس این اور دوسری کئی فری سرورسز پر مفت کے ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے صرف انٹرنیٹ کی چارجز جو کہ پندرہ روپے فی گھنٹہ تک ہوتے کئی کارڈ بھیجے اور وصول کئے جا سکتے ہیں۔ کئی رنگوں اور ڈیزائنوں میں انیمیشن والے ای کارڈ مفت میں دستیاب ہیں ۔ جن میں سے بعض متحرک اور موسیقی کے ساتھ ہیں۔ جن میں مختلف رشتوں اور تعلقات کے حوالے بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ماں، بہن بھائی اور دوست سے لے کر ایک گرل فرینڈ اور استاد تک تمام کے نام کے ای کارڈ ان ویب سائٹوں پر موجود ہیں۔ ہال مارک ڈاٹ کام ۔ ون ٹو تھری گریٹنگز اور بلیو ماؤنٹین آرٹس بعض مشہور ای کارڈ کی ویب سائٹیں ہیں۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ موبائل ٹیلیفون کے عام ہونے سے بھی عید کارڈوں کے کاروبار کو دھچکا پہنچا ہے۔ پاکستان میں سرکاری شعبے کی موبائل فون کمپنی یو فون نے گزشتہ دس ماہ میں آٹھ لاکھ سے زیادہ کنکشن بیچے ہیں۔ موبائل فونز پر بھی عید کے پیغامات موجود ہیں جو کہ صرف دو روپے میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ آئی ٹی کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر وہاب انصاری کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کے عام ہونے کے بعد اب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کاغذ پر چھپے ہوئے عید کارڈوں کا رواج دوردراز اور دیہی علاقوں میں تک محدود رہ گیا ہے اور اس وقت تک رہے گے جب تک ان علاقوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ مبارک باد کے کارڈ بھیجنے کا رواج خاصا پرانا ہے۔ پرانے زمانے میں چینی لوگ نئے سال کی آمد پر ایک دوسرے کومبارک باد کے کارڈ بھیجتے تھے۔
کہتے ہیں کہ مبارک باد کے کارڈ کا آغاز معذرت نامے کے طور پر ہوا۔ چونکہ کسی خوشی کے موقع پر حاضر ہو کر مبارک باد دینا ضرور ہوتا تھا لیکن جب کوئی شخص خوشی کے موقع پر کسی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتا تھا تو معذرت کے طور پر کارڈ بھیج دیتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||