BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 April, 2004, 23:02 GMT 04:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وائرلیس انقلاب

وائرلیس
دور دراز دیہات میں اس سہولت کی دستیابی یقیناّ کسی انقلاب سے کم نہیں
سلطان پور ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو دارالحکومت اسلام آباد سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ پاکستان کے بیشتر دیہاتوں کی طرح یہاں بھی زندگی کی بیشتر بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔ یہ گاؤں پکی سڑک، ہسپتال، بچیوں کے سکول یا جدید ذرائع آمدورفت سے محروم ہے۔ بجلی بھی حال ہی میں آئی ہے۔

لیکن ایک ایسی سہولت اس گاؤں کے لگ بھگ ایک ہزار مکینوں کو دستیاب ہے جو شاید بڑے شہروں میں بھی ہر کسی کے استعمال میں نہیں، اور وہ ہے وائرلیس ٹیلیفون۔

یہ وائرلیس ٹیلیفون گاؤں کی واحد دکان میں پبلک کال آفس کے طور پر ایک نجی کمپنی کے اہلکار کچھ عرصہ پہلے ہی نصب کر کے گۓ ہیں ـ اور یہ دوکان جو اِس گاؤں کا ڈپارٹمنٹل سٹور بھی ہے، سائیکلوں کی مرمت کا کارخانہ اور میڈیکل سٹور بھی، اب اس گاؤں کی سماجی اور معاشی سرگرمیوں کا محور بن چکی ہے۔ ہر شام گاؤں کے لوگ اس کال آفس کے مالک سے دن بھر کی خبریں سننے جمع ہوتے ہیں جو اس نے فون استعمال کرنے والوں کی زبانی سنی ہوتی ہیں ـ

ِاس ملک میں جہاں کچھ عرصے پہلے تک بڑے شہروں میں بھی ٹیلیفون حاصل کرنا، نوکری کی تلاش یا اپنا گھر بنانے سے بھی مشکل سمجھا جاتا تھا، وہاں ان دور دراز دیہات میں اس سہولت کی دستیابی یقیناّ کسی انقلاب سے کم نہیں۔ اور یہ انقلاب ممکن ہوا ہے جدید ترین وائرلیس ٹیکنالوجی وائرلیس لوکل لوپ ( WLL ) کی بدولت جسکے ذریعے اب یہ فون ایسے مقامات تک بھی پہنچایاجا رہا ہے جہاں نہ سڑک پہنچ سکی ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی ضروریات زندگی۔

سلطان پور کی طرح پاکستان کے بہت سے دیہات ٹیلی مواصلات کی اس جدید ترین ایجاد سے مستفید ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں وائرلیس فونز متعارف کروانے والی واحد کمپنی ٹیلی کارڈ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ فون ملک کے کونے کونے تک پہنچا دیے جائیں گے اور ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی اس سے مستفید ہو سکے گی۔

ٹیلی کارڈ کے نیشنل مینیجر فاروق عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کو پاکستان میں آئے ابھی دو سال سے بھی کم عرصہ ہوا ہے اور اس دوران یہ فون ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لنڈی کوتل سے اندرون سندھ میں عمر کوٹ اور بلوچستان میں چمن اور پشین تک ان کی سروس پہنچ رہی ہے۔

یوں تو اب بیشتر موبائل کمپنیاں ان علاقوں میں اپنی سروس پہنچا رہی ہیں لیکن اب بھی موبائل فون صرف شہروں اور ان سے ملحقہ علاقوں تک ہی محدود ہے جبکہ وائرلیس فون کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا ٹارگٹ ایریا ہی وہ دور دراز گاؤں ہیں جہاں موبائل اور دیگر فونز نہیں پہنچے۔ فاروق عمر کے مطابق ان چھوٹے اور غیر معروف علاقوں میں ان کے فونز استعمال کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ابھی مزید علاقوں میں یہ سروس مہیا کی جا رہی ہے ۔

یہ نئی طرز کے فون ایک اور طرح سے بھی موبائیل فونز سے مختلف ہیں اور وہ فرق ہے ان کے نرخ کا۔ موبائل فونز جہاں صارفین سے ایک کال کے پانچ سے آٹھ روپے تک وصول کرتے ہیں، اس فون کے ریٹ سرکاری کمپنی سے مطابقت رکھتے ہیں یعنی چار منٹ کی کال تین روپے میں۔ اور پھر یہ فون صرف پبلک کال آفس کے طور پر ہی استعمال کرنے کی اجازت ہے لہٰذا ہر کسی کی رسائی بھی ممکن ہے۔

فاروق عمر کے مطابق وائرلیس فون کے ان دور دراز دیہات تک پہنچنے سے وہاں سماجی و معاشی سرگرمیوں کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ ’جب کمیونیکشن ہوتا ہے تو کاروبار ہوتا ہے ـ اور کارو بار کسی بھی خطے کے لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے چاہے وہ کتنا ہی پسماندہ علاقہ کیوں نہ ہو‘۔

سلطان پور کے اس جدید ترین پبلک کال آفس کے مالک محمد آصف کا کہنا ہے کہ لین دین اور کاروبار کے علاوہ اس فون کا ایک فائدہ ایسا ہے جو کسی اور فون کا نہیں ہو سکتا۔ اور وہ یہ کہ گاؤں کی عورتیں گھر بیٹھے اس پی سی او کو استعمال کر سکتی ہیں کیونکہ اس کے ساتھ تار نہیں ہوتا لہٰذا گاؤں کے مرد اسے گھر لے جاتے ہیں۔

گاؤں کے مکین جو خوشی غمی کی اطلاع دینے کے لیے بھی سائیکلوں پر گاؤں گاؤں گھومتے تھے، آج اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ محمد مسکین نےجو اس کال آفس سے فون کرنے آئے تھے، بتایا کہ اس وائرلیس فون سے پہلے اگر کسی کو کبھی ملک سے باہر یا اندر ضروری فون کرنا ہوتا تھا تو سائیکل پر ’بڑی سڑک‘ تک جانا پڑتا تھا جہاں سے بس پر بیٹھ کر مزید سفر کرنا پڑتا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد