موبائل لائسنس ساڑھے تین ارب میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بدھ کے روز کھلی بولی کے ذریعہ دو مزید موبائل فون کمپنیوں کو ساڑھے تین ارب روپے میں لائسنس نیلام کئے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی چار موبائی فون کمپنیاں قائم ہیں۔ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل(ر) شہزادہ عالم نے بتایا کہ ویسے تو کئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن نو کمپنیوں کو اہل قرار دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں چار کمپنیاں باہر ہو گئیں اور دوسرے مرحلے میں پانچ کمپنیوں نے بولی میں حصہ لیا۔ ان میں سے دو کمپنیوں سپیس ٹیلی کام اور ٹیلی نار کو سب سے زائد بولی دہندہ قرار دے کر ان کی بولیاں قبول کی گئیں۔ سپیس ٹیلی کام میں شام کی کمپنی سیریا ٹیلی کام اور اٹک آئل کمپنی کا کنسورشیم ہے جس نے دو سو اکانوے ملین ڈالر کی بولی دی جبکہ ناروے کی کمپنی ٹیلی نار نے دو سو نوے ملین ڈالر کی بولی دی جو بعد میں بڑھا کر سپیس ٹیلی کام کے برابر کردی گئی۔ پی ٹی اے کے مطابق دونوں کامیاب بولی دہندہ کمپنیوں کو دس دن کے اندر کل بولی کی پچیس فیصد رقم جمع کرانی ہوگی اور اس کے بعد چالیس ورکنگ دنوں میں مزید پچیس فیصد رقم جمع کرانی ہوگی۔ مجموعی طور پر پچاس فیصد رقم ملنے پر متعلقہ کمپنی کو لائسنس جاری کردیا جائے گا جبکہ بقایا پچاس فیصد رقم دس سال میں ادا کرنی ہوگی۔ پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں موبائیل فون کے استعمال میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے تاہم اس کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ چودہ کروڑ سے زائد آبادی کے ملک میں موبائیل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک محتاط اندازے کے پہلے سے قائم چاروں کمپنیوں کے صارفین کی تعداد پچیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ دو نئی کمپنیوں کے نیٹ ورک قائم ہونے کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ شاید صارفین کو بہتر سہولیات کے علاوہ نرخ بھی کم ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||