| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موبائل اب واکی ٹاکی بھی
’بٹن دبائیں، بات کریں‘ (پش ٹو ٹاک) یہ ہے ایک نئی سروس جو اب موبائل فون کا حصہ ہوگی اور اس کے ذریعے اب آپ کہیں بھی کسی سے بھی واکی ٹاکی کی طرز پر بات کرسکیں گے اور اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ ٹیکسٹ میسجز کا رواج ختم ہو جائے۔ اس سروس کے ذریعے آپ کسی کو بھی اپنی ’بڈی لسٹ‘ (فہرست دوستاں) سے منتخب کرکے میسنجر کی طرح بات کر سکتے ہیں۔ اس کےلئے آپ صرف ایک بٹن دبائیں اور تیس سیکنڈ کا پیغام براہ راست نشر یا موصول کر سکتے ہیں۔ یہ سروس امریکہ میں بہت مقبول ہے اور امریکی مارکیٹ میں ’پش ٹو ٹاک‘ کی سب سے زیادہ بڑی موبائل فون کمپنی پہلے ہی ایک کروڑ بیس لاکھ گاہکوں کو یہ سہولت مہیّا کر رہی ہے۔ پچھلے سال امریکہ میں اس سہولت کو استعمال کرنے والوں نے باسٹھ ارب سے زیادہ پیغامات ایک دوسرے کو براہ راست بھیجے۔ اب شکاگو کی ایک کمپنی یہ سہولت برطانیہ میں بھی متعارف کرنے والی ہے۔ ’پش ٹو ٹاک‘ سستی قسم کا ڈیٹا منتقل کرنے کے نظام ’جنرل پیکٹ ریڈیو سروس‘ کے ذریعے یہ پیغامات بھیجتی ہے جسے مستقل آن رکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی موبائل کمپنیاں یہی نظام ڈیجیٹل ڈیٹا منتقل کرنے جیسے کہ ٹیکسٹ میسجنگ کیلئے استعمال کرتی ہیں۔
کسی بھی شخص کی طرف سے بھیجا گیا پیغام پہلے موبائل فون کمپنی کے گیٹ وے پر پہنچتا ہے جہاں سے اسے انٹرنیٹ کے ذریعے میسجنگ سرور پر بھیج دیا جاتا ہے۔ مسجنگ سرور یہ پیغام مطلوبہ شخص کے ملک میں انٹرنیٹ کو روانہ کرتا ہے جو جنرل پیکٹ ریڈیو سروس ہی کے ذریعے پیغام مطلوبہ شخص کے موبائل پر بھیج دیتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر میں صرف ٹیکسٹ میسج کی قیمت پر بات چیت ممکن ہوگی اور فون لائنوں کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے ذریعے رابطہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اسے استعمال کرنے والے ای میل اور تصویریں بھی بھیج سکتے ہیں جب کہ ایک اوسط استعمال کرنے والے کے مہینہ بھر کے اخراجات صرف سات پاؤنڈ تک ہوتے ہیں۔ فاسٹ موبائل کے یورپی مینیجنگ ڈائریکٹر جیمس ٹیگ کا کہنا ہے کہ یہ واکی ٹاکی پیغامات فون کا متبادل نہیں بلکہ ایک فوری رابطے کی سہولت ہے جس میں آپ کو نمبر بھی ڈائیل نہیں کرنا پڑتا۔ اگر امریکہ میں اس کی مقبولیت کو مدّنظر رکھا جائے تو ہو سکتا ہے دنیا بھر میں ٹیکسٹ میسجنگ کا رواج جلد ہی ختم ہو جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||