پاکستان: ٹیلی مواصلات کی دنیا میں انقلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے تیرہ سال پہلے جب دو سیلولر فون کمپنیوں نے پاکستان میں کام کرنا شروع کیا تھا تو موبائل فون صرف امراء کے استعمال کا ایک مہنگا شوق تھا اور اسے پجارو گاڑی کے ساتھ ساتھ امارت کے اظہار اور بڑے مرتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے ابتدائی چند سالوں میں پاکستان میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی تعداد بہت کم رہی۔ لیکن گزشتہ روز پاکستان میں ٹیلی فون کے شعبہ کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جب دو نئی کمپنیوں کو ملک میں موبائل فون سروس شروع کرنے کے لیے لائسنس جاری کیے گۓ تو ملک میں سیلولر فون استعمال کرنے والوں کی تعداد اڑتیس لاکھ ہوچکی ہے۔ پی ٹی اے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں صرف اگلے چھ ماہ میں مزید دس لاکھ لوگ موبائل فون کا کنیکشن لے سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر مواصلات اویس لغاری کے مطابق سرکاری فون کمپنی یو فون اس سال اگست میں پینتیس لاکھ نئے موبائل فون کنیکشن دے گی۔ اس وقت اس کو ساڑھے پانچ لاکھ صارفین استعمال کررہے ہیں۔ آج موبائل فون پاکستان کے ہر شعبہ زندگی کے پیشہ ور افراد صحافیوں، مستریوں، کاریگروں اور سیل مینوں کے ہروقت استعمال کی ضروری چیز ہی نہیں بلکہ معاشرتی قید و بند سے کترا کر گزرنے کے لیے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ضرورت بھی ہے۔
جن مزید کمپنیوں کو میدان میں آنے کا موقع دیا گیا ہے جن میں سے ہر ایک نے دو سو نوے ملین ڈالر (تقریبا سولہ ارب روپے) کے عوض یہ لائسنس نیلامی میں لیا ہے جس کا نصف یہ پیشگی ادا کرکے کام شروع کرسکیں گی اور باقی رقم چودہ سال میں قسطوں میں ادا کریں گی۔ ان میں سے ایک کمپنی ناروے کی مشہور ٹیلینور ہے جو پہلے ہی دس ملکوں میں کام کررہی ہے جن میں تھائی لینڈ اور ملائشیا بھی شامل ہیں۔ اس کمپنی کے نیلامی کے وقت موجود نمائندے اروے جانسن نے کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو مارکیٹ میں آنے کے لیے نو سے بارہ ماہ کی مدت لگ سکتی ہے۔ اسی طرح لائسنس حاصل کرنے والی دوسری کمپنی اسپیس ٹیلی کام میں برطانیہ اور شام کے سرمایہ کار شامل ہیں جنھوں نے پاکستان کی دوسری بڑی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کنسورشیم بنایا ہے۔ اس کمپنی کو بنیادی طور پر شام کی سیریاٹیل چلائے گی جس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر کلافی کاکہنا تھا کہ ان کمپنی نے اس وجہ سے لائسنس کی نیلامی میں حصہ لیا کہ پاکستان میں موبائل فون کے پھیلنے کی بہت گنجائش موجود ہے۔ پی ٹی اے کے چئیرمین شہزادہ عالم ملک کا کہنا ہے ملک میں سنہ دو ہزار آٹھ تک موبائل فون کی مانگ میں ہر سال دس فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
تیرہ سال پہلے انسٹا فون اور پاکٹل نے سروس شروع کی تو یہ دونوں جی ایس ایم ٹیکنالوجی پر کام نہیں کرتی تھیں اور موبائل فون سیٹ بڑے بڑے تھے جن پر انٹینا لگا ہوتا تھا۔ ان کمپنیوں کی چند سال تک موبائل فون سیکٹر میں اجارہ داری رہی۔پاکٹل کے ساڑھے تین لاکھ اور انسٹافون کے پانچ لاکھ سے کچھ زیادہ صارفین ہیں۔ کچھ سال بعد دیر بعد جی ایس ایم کی جدید ٹیکنالوجی کی حامل موبی لنک کمپنی کو میدان میں آنے کا موقع دیا گیا تو یہ کمپنی آتے ہی مارکیٹ پر چھا گئی اور اس وقت ملک کے ساٹھ فیصد موبائل فون استعمال کرنے والے اس کمپنی کے کنیکشن استعمال کررہے ہیں۔ یہ تعداد چوبیس لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ اس کی اجارہ داری دو سال پہلے یو فون نے توڑی۔ اس وقت پاکستان میں پینتالیس لاکھ عام ٹیلیفون کنیکشن استعمال ہورہے ہیں جنھیں عام طور پر کمپنی کے نام پر پی ٹی سی ایل نمبر کہا جاتا ہے۔ اب جس طرح موبائل فون مقبول ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوۓ پی ٹی اے کے ڈائریکٹر غلام قادر خان کا خیال ہے کہ ایک سال میں سیلولر فون کے استعمال کرنے والوں کی تعداد عام فون کو استعمال کرنے والوں سے بڑھ جاۓ گی۔ پی ٹی اے کا تخمینہ ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ تک ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والے ستر لاکھ کے قریب ہوں گے۔ ایک ایسا ملک جہاں پندرہ کروڑ میں سے ایک تہائی لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارتے ہیں یہ بات ذرا تعجب کی ہے لیکن اس دوڑ میں پاکستان شائد اکیلا ہی شامل نہیں ہے پی ٹی اے کے مطابق دنیا کے پینتیس ملک ایسے ہیں جہاں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد عام فکسڈ فون والوں سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں کوئی تعجب نہیں کہ وفاقی وزیر مواصلات کا اندازہ ہے کہ ایک سال میں ٹیلی فون کے شعبہ میں ملک میں نئی کمپنیوں کے آنے سے ایک ارب ڈالر یا ساٹھ ارب کے قریب سرمایہ کاری ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||